موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب المساقاة— کتاب: مساقاۃ کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُسَاقَاةِ باب: مساقاۃ کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِيَهُودِ خَيْبَرَ يَوْمَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ : " أُقِرُّكُمْ فِيهَا مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، عَلَى أَنَّ الثَّمَرَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ " . قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، ثُمَّ يَقُولُ : إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِي فَكَانُوا يَأْخُذُونَهُ حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبیر کے یہودیوں سے جس دن خبیر فتح ہوا: ”جو تم کو اللہ نے دیا ہے اس پر میں تمہیں برقرار رکھوں گا اس شرط سے کہ جتنے پھل یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ ہم میں تم میں مشترک ہوں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ کو بھیجتے تھے، وہ درختوں کو دیکھ کر ان کے پھلوں کا اندازہ کرتے تھے اور کہتے: اگر تم چاہو تو تم ان پھلوں کو لے لو، اور جو اندازہ ہوا ہے اس کا آدھا ہم کو دیدو، یا ہم تم کو اس اندازے کے آدھے پھل دیں گے۔ یہود خود پھل لے لیا کرتے تھے۔