موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِفْلَاسِ الْغَرِيمِ باب: قرض دار کے مفلس ہو جانے کا بیان
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَكَ الرَّجُلُ مَالَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ، پھر مشتری مفلس ہو گیا اور بائع نے اپنی چیز بعینہ مشتری کے پاس پائی، تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔“
قَالَ مَالِكٌ : فِي رَجُلٍ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الْمُبْتَاعُ، فَإِنَّ الْبَائِعَ إِذَا وَجَدَ شَيْئًا مِنْ مَتَاعِهِ بِعَيْنِهِ أَخَذَهُ، وَإِنْ كَانَ الْمُشْتَرِي قَدْ بَاعَ بَعْضَهُ، وَفَرَّقَهُ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْغُرَمَاءِ، لَا يَمْنَعُهُ مَا فَرَّقَ الْمُبْتَاعُ مِنْهُ، أَنْ يَأْخُذَ مَا وَجَدَ بِعَيْنِهِ، فَإِنِ اقْتَضَى مِنْ ثَمَنِ الْمُبْتَاعِ شَيْئًا فَأَحَبَّ أَنْ يَرُدَّهُ وَيَقْبِضَ مَا وَجَدَ مِنْ مَتَاعِهِ، وَيَكُونَ فِيمَا لَمْ يَجِدْ أُسْوَةَ الْغُرَمَاءِ فَذَلِكَ لَهُ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے کوئی اسباب بیچا، پھر مشتری مفلس ہوگیا اور بائع نے اپنی چیز بعینہ مشتری کے پاس پائی، تو بائع اس کو لے لے گا، اگر مشتری نے اس میں سے کچھ بیچ ڈالا ہے، تو جس قدر باقی ہے اس کا بائع زیادہ حقدار ہے، بہ نسبت اور قرض خواہوں کے۔ اگر بائع تھوڑی سی ثمن پا چکا ہے، پھر بائع یہ چاہے کہ اس ثمن کو پھیر کر جس قدر اسباب اپنا باقی ہے اس کو لے لے، اور جو کچھ باقی رہ جائے اس میں اور قرض خواہوں کے برابر رہے، تو ہو سکتا ہے۔
قَالَ مَالِكٌ : وَمَنِ اشْتَرَى سِلْعَةً مِنَ السِّلَعِ غَزْلًا أَوْ مَتَاعًا أَوْ بُقْعَةً مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ الْمُشْتَرَى عَمَلًا بَنَى الْبُقْعَةَ دَارًا، أَوْ نَسَجَ الْغَزْلَ ثَوْبًا، ثُمَّ أَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَ ذَلِكَ، فَقَالَ : رَبُّ الْبُقْعَةِ أَنَا آخُذُ الْبُقْعَةَ وَمَا فِيهَا مِنَ الْبُنْيَانِ، إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لَهُ، وَلَكِنْ تُقَوَّمُ الْبُقْعَةُ وَمَا فِيهَا، مِمَّا أَصْلَحَ الْمُشْتَرِي ثُمَّ يُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُ الْبُقْعَةِ؟ وَكَمْ ثَمَنُ الْبُنْيَانِ مِنْ تِلْكَ الْقِيمَةِ؟ ثُمَّ يَكُونَانِ شَرِيكَيْنِ فِي ذَلِكَ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ، بِقَدْرِ حِصَّتِهِ وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ بِقَدْرِ حِصَّةِ الْبُنْيَانِ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے سوت یا زمین خریدی پھر سوت کا کپڑا بن لیا اور زمین پر مکان بنایا، بعد اس کے مشتری مفلس ہوگیا، اب زمین کا بائع یہ کہے کہ میں زمین اور مکان سب لیے لیتا ہوں، تو یہ نہیں ہو سکتا، بلکہ زمین کی اور عملے کی قیمت لگائیں گے، پھر دیکھیں گے اس قیمت کا حصّہ زمین پر کتنا آتا ہے، اور عملے پر کتنا آتا ہے، اب بائع اور مشتری دونوں اس میں شریک رہیں گے، زمین کا مالک اپنے حصّہ کے موافق اور باقی قرض خواہ عملے کے موافق۔
قَالَ مَالِكٌ : وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ تَكُونَ قِيمَةُ ذَلِكَ كُلِّهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَتَكُونُ قِيمَةُ الْبُقْعَةِ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَقِيمَةُ الْبُنْيَانِ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَيَكُونُ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الثُّلُثُ، وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ الثُّلُثَانِ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی مثال یہ ہے: جیسے زمین اور عملے کی قیمت پندرہ سو ہوئی، اس میں سے زمین کی قیمت پانچ سو ہے اور عملے کی ہزار ہے، تو زمین والے کا ایک تہائی ہوگا، اور باقی قرض خواہوں کے دو تہائی ہوں گے۔
قَالَ مَالِكٌ : وَكَذَلِكَ الْغَزْلُ وَغَيْرُهُ مِمَّا أَشْبَهَهُ، إِذَا دَخَلَهُ هَذَا، وَلَحِقَ الْمُشْتَرِيَ دَيْنٌ لَا وَفَاءَ لَهُ عِنْدَهُ، وَهَذَا الْعَمَلُ فِيهِ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہی حکم سوت میں ہے جب کہ مشتری نے اس کو بن لیا، بعد اس کے قرضدار ہو کر مفلس ہوگیا۔
قَالَ مَالِكٌ : فَأَمَّا مَا بِيعَ مِنَ السِّلَعِ الَّتِي لَمْ يُحْدِثْ فِيهَا الْمُبْتَاعُ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ نَفَقَتْ، وَارْتَفَعَ ثَمَنُهَا، فَصَاحِبُهَا يَرْغَبُ فِيهَا، وَالْغُرَمَاءُ يُرِيدُونَ إِمْسَاكَهَا، فَإِنَّ الْغُرَمَاءَ يُخَيَّرُونَ بَيْنَ أَنْ : يُعْطُوا رَبَّ السِّلْعَةِ الثَّمَنَ الَّذِي بَاعَهَا بِهِ، وَلَا يُنَقِّصُوهُ شَيْئًا، وَبَيْنَ أَنْ يُسَلِّمُوا إِلَيْهِ سِلْعَتَهُ، وَإِنْ كَانَتِ السِّلْعَةُ قَدْ نَقَصَ ثَمَنُهَا، فَالَّذِي بَاعَهَا بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ سِلْعَتَهُ، وَلَا تِبَاعَةَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ مَالِ غَرِيمِهِ، فَذَلِكَ لَهُ. وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَكُونَ غَرِيمًا مِنَ الْغُرَمَاءِ يُحَاصُّ بِحَقِّهِ، وَلَا يَأْخُذُ سِلْعَتَهُ فَذَلِكَ لَهُ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مشتری نے اس چیز میں تصرف نہیں کیا، مگر اس چیز کی قیمت بڑھ گئی، اب بائع یہ چاہتا ہے کہ اپنی شئے پھیر لے، اور قرض خواہ چاہتے ہیں کہ وہ شئے بائع کو نہ دیں، تو قرض خواہوں کو اختیار ہے، خواہ بائع کی ثمن پوری پوری حوالے کردیں۔ اگر اس چیز کی قیمت گھٹ گئی تو بائع کو اختیار ہے، خواہ اپنی چیز لے لے، پھر اس کو مشتری کے مال سے کچھ غرض نہ ہوگی، خواہ اپنی چیز نہ لے اور قرض خواہوں کے ساتھ شریک ہوجائے۔
قَالَ مَالِكٌ : فِيمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً أَوْ دَابَّةً فَوَلَدَتْ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَفْلَسَ الْمُشْتَرِي، فَإِنَّ الْجَارِيَةَ أَوِ الدَّابَّةَ وَوَلَدَهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَرْغَبَ الْغُرَمَاءُ فِي ذَلِكَ فَيُعْطُونَهُ حَقَّهُ كَامِلًا، وَيُمْسِكُونَ ذَلِكَ.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے لونڈی خریدی یا جانور خریدا، پھر اس لونڈی یا جانور کا مشتری کے پاس آن کر بچہ پیدا ہوا، بعد اس کے مشتری مفلس ہوگیا، تو وہ بچہ بائع کا ہوگا، البتہ اگر قرض خواہ بائع کی پوری ثمن ادا کردیں تو بچہ کو اور اس کی ماں کو دونوں کو رکھ سکتے ہیں۔