موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِفْلَاسِ الْغَرِيمِ باب: قرض دار کے مفلس ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1384
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مِنْهُ وَلَمْ يَقْبِضْ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِنْ مَاتَ الَّذِي ابْتَاعَهُ، فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ فِيهِ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ " علامہ وحید الزماں
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ، پھر مشتری مفلس ہو گیا اور بائع کو ثمن وصول نہیں ہوئی، لیکن بائع نے اپنی چیز بعینہ مشتری کے پاس پائی تو بائع اس چیز کا زیادہ حقدار ہوگا، اگر مشتری مر گیا تو اس چیز میں بائع اور قرض خواہوں کے برابر ہوگا۔“