موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ جَامِعِ الدَّيْنِ وَالْحِوَلِ باب: قرض کے مختلف مسائل کا بیان
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أَبِيعُ بِالدَّيْنِ، فَقَالَ سَعِيدٌ : " لَا تَبِعْ إِلَّا مَا آوَيْتَ إِلَى رَحْلِكَ " .حضرت موسیٰ بن میسرہ نے سنا، ایک شخص پوچھ رہا تھا سعید بن مسیّب سے: میں قرض کے بدل میں بیچا کرتا ہوں؟ سعید نے کہا: تو نہ بیچ مگر اس چیز کو جو تیرے پاس ہو۔
قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنَ الرَّجُلِ عَلَى أَنْ يُوَفِّيَهُ تِلْكَ السِّلْعَةَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، إِمَّا لِسُوقٍ يَرْجُو نَفَاقَهَا فِيهِ، وَإِمَّا لِحَاجَةٍ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الَّذِي اشْتَرَطَ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُخْلِفُهُ الْبَائِعُ عَنْ ذَلِكَ الْأَجَلِ، فَيُرِيدُ الْمُشْتَرِي رَدَّ تِلْكَ السِّلْعَةِ عَلَى الْبَائِعِ : إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لِلْمُشْتَرِي، وَإِنَّ الْبَيْعَ لَازِمٌ لَهُ، وَإِنَّ الْبَائِعَ لَوْ جَاءَ بِتِلْكَ السِّلْعَةِ قَبْلَ مَحِلِّ الْأَجَلِ لَمْ يُكْرَهْ الْمُشْتَرِي عَلَى أَخْذِهَا .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص کوئی چیز خرید کرے اس شرط پر کہ بائع وہ شئے مشتری کو اتنی مدت میں سپرد کردے، اس میں مشتری نے کوئی مصلحت رکھی ہو، مثلاً اس وقت بازار میں اس مال کی نکاسی کی امید ہو، یا اور کچھ غرض ہو، پھر بائع اس وعدے میں خلاف کرے اور مشتری چاہے کہ وہ شئے بائع کو پھیر دے، تو مشتری کو یہ حق نہیں پہنچتا، اور بیع لازم رہے گی، اگر بائع اس شئے کو قبل میعاد کے لے آیا تو مشتری پر جبر نہ کیا جائے گا اس کے لینے پر۔
. قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَكْتَالُهُ، ثُمَّ يَأْتِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنْهُ فَيُخْبِرُ الَّذِي يَأْتِيهِ أَنَّهُ قَدِ اكْتَالَهُ لِنَفْسِهِ وَاسْتَوْفَاهُ، فَيُرِيدُ الْمُبْتَاعُ أَنْ يُصَدِّقَهُ وَيَأْخُذَهُ بِكَيْلِهِ : إِنَّ مَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ بِنَقْدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ إِلَى أَجَلٍ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ، حَتَّى يَكْتَالَهُ الْمُشْتَرِي الْآخَرُ لِنَفْسِهِ، وَإِنَّمَا كُرِهَ الَّذِي إِلَى أَجَلٍ لِأَنَّهُ ذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا، وَتَخَوُّفٌ أَنْ يُدَارَ ذَلِكَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ كَيْلٍ وَلَا وَزْنٍ، فَإِنْ كَانَ إِلَى أَجَلٍ فَهُوَ مَكْرُوهٌ وَلَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اناج خرید کر اس کو تول لے، پھر ایک خریدار آئے جو مشتری سے اس اناج کو خرید کرنا چاہے، مشتری اس سے کہے کہ میں اناج تول چکا ہوں اور وہ شخص مشتری کو سچا سمجھ کر اس غلّے کو نقد مول لے لے تو کچھ قباحت نہیں، مگر وعدے پر لینا مکروہ ہے، جب تک وہ خریدار دوبارہ اس کو تول نہ لے۔
قَالَ مَالِك : لَا يَنْبَغِي أَنْ يُشْتَرَى دَيْنٌ عَلَى رَجُلٍ غَائِبٍ وَلَا حَاضِرٍ إِلَّا بِإِقْرَارٍ مِنَ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَلَا عَلَى مَيِّتٍ، وَإِنْ عَلِمَ الَّذِي تَرَكَ الْمَيِّتُ وَذَلِكَ أَنَّ اشْتِرَاءَ ذَلِكَ غَرَرٌ لَا يُدْرَى أَيَتِمُّ أَمْ لَا يَتِمُّ، قَالَ : وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ : أَنَّهُ إِذَا اشْتَرَى دَيْنًا عَلَى غَائِبٍ أَوْ مَيِّتٍ، أَنَّهُ لَا يُدْرَى مَا يَلْحَقُ الْمَيِّتَ مِنَ الدَّيْنِ الَّذِي لَمْ يُعْلَمْ بِهِ، فَإِنْ لَحِقَ الْمَيِّتَ دَيْنٌ، ذَهَبَ الثَّمَنُ الَّذِي أَعْطَى الْمُبْتَاعُ بَاطِلًا .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ دَین کا خریدنا درست نہیں خواہ غائب پر ہو یا حاضر پر، مگر جب شخص حاضر اس کا اقرار کرے، اسی طرح جو دَین میّت پر ہو اس کا بھی خریدنا درست نہیں، کیونکہ اس میں دھوکا ہے، معلوم نہیں وہ قرض ملتا ہے یا نہیں، اس واسطے اگر میّت یا غائب پر اور بھی دَین نکلا تو اس کے پیسے مفت گئے، دوسرے یہ کہ وہ قرض اس کی ضمان میں داخل نہیں ہوا، اگر نہ نپٹا تو اس کے پیسے مفت گئے۔
. قَالَ مَالِك : وَفِي ذَلِكَ أَيْضًا عَيْبٌ آخَرُ : أَنَّهُ اشْتَرَى شَيْئًا لَيْسَ بِمَضْمُونٍ لَهُ، وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ ذَهَبَ ثَمَنُهُ بَاطِلًا، فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَصْلُحُ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بیع سلف (قرض) میں اور بیع عینہ میں یہ فرق ہے کہ بیع عینہ والا دس دینار نقد دے کر پندرہ دینار وعدے پر لیتا ہے، تو یہ صریح دھوکا ہے، اور بالکل فریب ہے۔
قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ أَنْ لَا يَبِيعَ الرَّجُلُ إِلَّا مَا عِنْدَهُ وَأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي شَيْءٍ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلُهُ، أَنَّ صَاحِبَ الْعِينَةِ إِنَّمَا يَحْمِلُ ذَهَبَهُ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَبْتَاعَ بِهَا، فَيَقُولُ : هَذِهِ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَمَا تُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ لَكَ بِهَا ؟ فَكَأَنَّهُ يَبِيعُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْدًا بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ، فَلِهَذَا كُرِهَ هَذَا، وَإِنَّمَا تِلْكَ الدُّخْلَةُ وَالدُّلْسَةُقَالَ مَالِكٌ : فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ الْبَزَّ الْمُصَنَّفَ، وَيَسْتَثْنِي ثِيَابًا بِرُقُومِهَا، إِنَّهُ إِنِ اشْتَرَطَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْ ذَلِكَ الرَّقْمَ، فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُ حِينَ اسْتَثْنَى، فَإِنِّي أَرَاهُ شَرِيكًا فِي عَدَدِ الْبَزِّ الَّذِي اشْتُرِيَ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّ الثَّوْبَيْنِ يَكُونُ رَقْمُهُمَا سَوَاءً وَبَيْنَهُمَا تَفَاوُتٌ فِي الثَّمَنِ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے کئی قسم کا کپڑا بیچا اور چند رقم کے کپڑے مستثنیٰ کر لینے کی شرط کر لی، تو کچھ قباحت نہیں، اگر شرط نہیں کی تو وہ ان کپڑوں میں شریک ہو جائے گا۔ اس لیے کہ ایک رقم کے کپڑوں میں بھی کم وبیش ہوتی ہے۔
قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ مِنْهُ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ، قَبَضَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يَقْبِضْ، إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِالنَّقْدِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ رِبْحٌ، وَلَا وَضِيعَةٌ، وَلَا تَأْخِيرٌ لِلثَّمَنِ، فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ رِبْحٌ أَوْ وَضِيعَةٌ أَوْ تَأْخِيرٌ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ، وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ، وَلَيْسَ بِشِرْكٍ وَلَا تَوْلِيَةٍ وَلَا إِقَالَةٍ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ شرکت اور تولیہ اور اقالہ کھانے کی چیزوں میں درست ہے، خواہ ان پر قبضہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، مگر یہ ضروری ہے کہ نقد ہو میعاد نہ ہو، اور کمی بیشی نہ ہو، اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا میعاد ہوگی تو یہ معاملے بیع سمجھے جائیں گے، شرکت اور تولیہ اور اقالہ نہ ہوں گے۔
قَالَ مَالِكٌ : مَنِ اشْتَرَى سِلْعَةً بَزًّا أَوْ رَقِيقًا، فَبَتَّ بِهِ، ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ أَنْ يُشَرِّكَهُ فَفَعَلَ، وَنَقَدَا الثَّمَنَ صَاحِبَ السِّلْعَةِ جَمِيعًا، ثُمَّ أَدْرَكَ السِّلْعَةَ شَيْءٌ يَنْتَزِعُهَا مِنْ أَيْدِيهِمَا، فَإِنَّ الْمُشَرَّكَ يَأْخُذُ مِنِ الَّذِي أَشْرَكَهُ الثَّمَنَ، وَيَطْلُبُ الَّذِي أَشْرَكَ بَيِّعَهُ الَّذِي بَاعَهُ السِّلْعَةَ بِالثَّمَنِ كُلِّهِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشَرِّكُ عَلَى الَّذِي أَشْرَكَ بِحَضْرَةِ الْبَيْعِ، وَعِنْدَ مُبَايَعَةِ الْبَائِعِ الْأَوَّلِ، وَقَبْلَ أَنْ يَتَفَاوَتَ ذَلِكَ أَنَّ عُهْدَتَكَ عَلَى الَّذِي ابْتَعْتُ مِنْهُ، وَإِنْ تَفَاوَتَ ذَلِكَ، وَفَاتَ الْبَائِعَ الْأَوَّلَ فَشَرْطُ الْآخَرِ بَاطِلٌ وَعَلَيْهِ الْعُهْدَةُ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے کوئی اسباب جیسے کپڑا یا غلام یا لونڈی خرید کیا، پھر ایک شخص نے اس سے کہا کہ مجھ کو بھی اس میں شریک کر لو، اس نے قبول کیا اور دونوں نے مل کر بائع کو قیمت ادا کردی، پھر وہ اسباب کسی اور کا نکلا، تو جو شخص شریک ہوا وہ اپنے دام پہلے مشتری سے لے لے گا۔ اور وہ بائع سے لے گا، مگر جس صورت میں مشتری نے خریدتے وقت بائع کے سامنے اس شریک سے کہہ دیا ہو کہ اگر بیع میں فتور نکلے تو اس کی جواب دہی بائع پر ہوگی، تو اس صورت میں وہ شریک اپنا نقصان بائع سے لے گا، اگر ایسا نہ ہو تو مشتری کی شرط کچھ کام نہ آئے گی، اور تاوان کا نقصان اسی پر ہوگا۔
قَالَ مَالِكٌ : فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ : اشْتَرِ هَذِهِ السِّلْعَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَانْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ، إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ. حِينَ قَالَ : انْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ. وَإِنَّمَا ذَلِكَ سَلَفٌ يُسْلِفُهُ إِيَّاهُ، عَلَى أَنْ يَبِيعَهَا لَهُ. وَلَوْ أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ هَلَكَتْ. أَوْ فَاتَتْ. أَخَذَ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي نَقَدَ الثَّمَنَ. مِنْ شَرِيكِهِ مَا نَقَدَ عَنْهُ فَهَذَا مِنَ السَّلَفِ الَّذِي يَجُرُّ مَنْفَعَةً. قَالَ مَالِكٌ : وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ سِلْعَةً، فَوَجَبَتْ لَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَشْرِكْنِي بِنِصْفِ هَذِهِ السِّلْعَةِ، وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ جَمِيعًا، كَانَ ذَلِكَ حَلَالًا لَا بَأْسَ بِهِ، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ هَذَا بَيْعٌ جَدِيدٌ. بَاعَهُ نِصْفَ السِّلْعَةِ، عَلَى أَنْ يَبِيعَ لَهُ النِّصْفَ الْآخَرَ.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زید نے عمرو سے یہ کہا: تو اس شئے کو خرید کر لے میرے اور اپنے ساجھے میں، میں بکوادوں گا، تو میری طرف سے بھی دام دے دے، تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سلف (قرض) ہے بکوا دینے کی شرط پر، اگر وہ شئے تلف ہو جائے تو عمرو زید سے اس کے حصّہ کے دام لے لے گا، البتہ اگر عمرو ایک شئے خرید کر چکا، پھر زید نے کہا: مجھے بھی اس میں شریک کر لے آدھے کو، میں بکوادوں گا تو یہ درست ہے۔