موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا فِي الدَّيْنِ باب: قرض میں سود کا بیان
حدیث نمبر: 1380
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَفْصِ بْنِ خَلْدَةَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ " يَكُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَى الرَّجُلِ إِلَى أَجَلٍ، فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الْآخَرُ، فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَى عَنْهُ " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا ایک شخص کا: میعادی قرض کسی پر آتا ہو، قرضدار یہ کہے: یہ مجھ سے کچھ کم کر کے نقد لے لے، اور قرض خواہ اس پر راضی ہو جائے؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو مکروہ جانا، اور اس سے منع کیا۔