موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا فِي الدَّيْنِ باب: قرض میں سود کا بیان
حدیث نمبر: 1379
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى السَّفَّاحِ، أَنَّهُ قَالَ : " بِعْتُ بَزًّا لِي مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَى أَجَلٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَيَنْقُدُونِي، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ : " لَا آمُرُكَ أَنْ تَأْكُلَ هَذَا وَلَا تُوكِلَهُ " علامہ وحید الزماں
عبید ابوصالح نے کہا: میں نے اپنا کپڑا دار نخلہ (ایک مقام ہے مکّہ اور طائف کے بیچ میں) والوں کے ہاتھ بیچا ایک وعدے پر، جب میں کوفہ جانے لگا تو ان لوگوں نے کہا: اگر کچھ کم کر دو تو تمہارا روپیہ ہم ابھی دے دیتے ہیں۔ میں نے یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں تجھے اس روپے کے کھانے اور کھلانے کی اجازت نہیں دیتا۔