موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ بَيْعِ الْخِيَارِ باب: جس بیع میں بائع اور مشتری کو اختیار ہو اس کا بیان
قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْقَوْمِ يَشْتَرُونَ السِّلْعَةَ الْبَزَّ، أَوِ الرَّقِيقَ. فَيَسْمَعُ بِهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ لِرَجُلٍ مِنْهُمُ الْبَزُّ الَّذِي اشْتَرَيْتَ مِنْ فُلَانٍ، قَدْ بَلَغَتْنِي صِفَتُهُ وَأَمْرُهُ، فَهَلْ لَكَ أَنْ أُرْبِحَكَ فِي نَصِيبِكَ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ : نَعَمْ فَيُرْبِحُهُ، وَيَكُونُ شَرِيكًا لِلْقَوْمِ مَكَانَهُ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ رَآهُ قَبِيحًا وَاسْتَغْلَاهُ، قَالَ مَالِكٌ : ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ، وَلَا خِيَارَ لَهُ فِيهِ، إِذَا كَانَ ابْتَاعَهُ عَلَى بَرْنَامَجٍ وَصِفَةٍ مَعْلُومَةٍ. ¤امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر چند آدمیوں نے مل کر کوئی اسباب خریدا، اب ایک شخص دوسرا اُن میں سے ایک شخص کو کہے: تو نے جو اسباب خریدا ہے، میں نے اس کے اوصاف سنے ہیں، تو اپنا حصّہ اس قدر نفع پر مجھے دے دے، میں تیری جگہ ان لوگوں کا شریک ہوجاؤں گا۔ اور وہ منظور کرے، بعد اس کے جب اس سامان کو دیکھے تو بُرا اور گراں معلوم ہو، اب اس کو اختیار نہ ہوگا، لینا پڑے گا، جب کہ اس کے ہاتھ برنامے پر بیچا ہو، اور اوصاف بتادیئے ہوں۔
قَالَ مَالِكٌ : فِي الرَّجُلِ يَقْدَمُ لَهُ أَصْنَافٌ مِنَ الْبَزِّ، وَيَحْضُرُهُ السُّوَّامُ، وَيَقْرَأُ عَلَيْهِمْ بَرْنَامَجَهُ، وَيَقُولُ : فِي كُلِّ عِدْلٍ كَذَا وَكَذَا مِلْحَفَةً بَصْرِيَّةً، وَكَذَا وَكَذَا رَيْطَةً سَابِرِيَّةً ذَرْعُهَا كَذَا وَكَذَا، وَيُسَمِّي لَهُمْ أَصْنَافًا مِنَ الْبَزِّ بِأَجْنَاسِهِ، وَيَقُولُ : اشْتَرُوا مِنِّي عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ، فَيَشْتَرُونَ الْأَعْدَالَ عَلَى مَا وَصَفَ لَهُمْ ثُمَّ يَفْتَحُونَهَا فَيَسْتَغْلُونَهَا وَيَنْدَمُونَ، قَالَ مَالِكٌ : ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُمْ إِذَا كَانَ مُوَافِقًا لِلْبَرْنَامَجِ الَّذِي بَاعَهُمْ عَلَيْهِ. قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا يُجِيزُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِذَا كَانَ الْمَتَاعُ مُوَافِقًا لِلْبَرْنَامَجِ وَلَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لَهُ.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص کے پاس مختلف کپڑوں کی گٹھریاں آئیں، اور اس نے برنامہ سنا کے اُن گٹھریوں کو فروخت کیا، جب لوگوں نے مال کھول کر دیکھا تو گراں معلوم ہوا اور نادم ہوئے، اس صورت میں وہ مال ان کو لینا ہوگا۔ جب کہ برنامے کے موافق ہو۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں، مگر جس بیع میں خیار کی شرط ہو۔“
قَالَ مَالِك : وَلَيْسَ لِهَذَا عِنْدَنَا حَدٌّ مَعْرُوفٌ، وَلَا أَمْرٌ مَعْمُولٌ بِهِ فِيهِامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک خیار کی کوئی مدت مقرر نہیں۔