موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ السُّلْفَةِ فِي الطَّعَامِ باب: اناج میں سلف کر نے کا بیان
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا بَأْسَ بِأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الطَّعَامِ الْمَوْصُوفِ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، مَا لَمْ يَكُنْ فِي زَرْعٍ لَمْ يَبْدُ صَلَاحُهُ أَوْ تَمْرٍ لَمْ يَبْدُ صَلَاحُهُ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کچھ قباحت نہیں اگر ایک مرد دوسرے مرد سے سلف کرے اناج میں، جب اس کا وصف بیان کر دے، نرخ مقرر کر کے میعاد معین پر، جب وہ سلم کسی ایسے کھیت میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو، یا ایسی کھجور میں نہ ہو جس کی بہتری کا حال معلوم نہ ہو۔
قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَنْ سَلَّفَ فِي طَعَامٍ بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَحَلَّ الْأَجَلُ فَلَمْ يَجِدِ الْمُبْتَاعُ عِنْدَ الْبَائِعِ وَفَاءً مِمَّا ابْتَاعَ مِنْهُ فَأَقَالَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ إِلَّا وَرِقَهُ أَوْ ذَهَبَهُ أَوِ الثَّمَنَ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ بِعَيْنِهِ، وَإِنَّهُ لَا يَشْتَرِي مِنْهُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ شَيْئًا حَتَّى يَقْبِضَهُ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا أَخَذَ غَيْرَ الثَّمَنِ الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ، أَوْ صَرَفَهُ فِي سِلْعَةٍ غَيْرِ الطَّعَامِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهُوَ بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے: جو شخص سلف کرے اناج میں نرخ مقرر کر کے مدت معین پر، تو جب مدت گزرے اور خریدار بائع کے پاس وہ اناج نہ پائے اور سلف کو مسخ کرے، تو خریدار کو چاہیے اپنی چاندی یا سونا دیا ہوا یا قیمت دی ہوئی بعینہ پھیر لے، یہ نہ کرے کہ اس کے بدلے میں دوسری شئے بائع سے خرید لے جب تک اپنے ثمن پر قبضہ نہ کر لے، کیونکہ اگر خریدار نے جو قیمت دی ہے اس کے سوا کچھ لے آیا اس کے بدلے میں دوسرا اسباب خرید لے، تو اس نے اناج کو قبل قبضہ کے بیچا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔
قَالَ مَالِك : وَقَدْ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى " . قَالَ مَالِك : فَإِنْ نَدِمَ الْمُشْتَرِي، فَقَالَ لِلْبَائِعِ : أَقِلْنِي وَأُنْظِرُكَ بِالثَّمَنِ الَّذِي دَفَعْتُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمَّا حَلَّ الطَّعَامُ لِلْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ أَخَّرَ عَنْهُ حَقَّهُ عَلَى أَنْ يُقِيلَهُ فَكَانَ ذَلِكَ بَيْعَ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ قَبْلَ أَنْ يُسْتَوْفَى .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مشتری نے بائع سے کہا: سلف کو فسخ کر ڈال اور ثمن واپس کرنے کے لیے میں تجھ کو مہلت دیتا ہوں، تو یہ جائز نہیں، اور اہلِ علم اس کو منع کرتے ہیں، کیونکہ جب میعاد گزر گئی اور اناج بائع کے ذمہ واجب ہو، اب مشتری نے اپنے حق وصول کرنے میں دیر کی اس شرط سے کہ بائع سلم کو فسخ کر ڈالے، تو گویا مشتری نے اپنے اناج کو ایک مدت پر بیچا قبل قبضے کے۔
قَالَ مَالِك : وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ : أَنَّ الْمُشْتَرِيَ حِينَ حَلَّ الْأَجَلُ وَكَرِهَ الطَّعَامَ أَخَذَ بِهِ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِالْإِقَالَةِ، وَإِنَّمَا الْإِقَالَةُ مَا لَمْ يَزْدَدْ فِيهِ الْبَائِعُ وَلَا الْمُشْتَرِي، فَإِذَا وَقَعَتْ فِيهِ الزِّيَادَةُ بِنَسِيئَةٍ إِلَى أَجَلٍ أَوْ بِشَيْءٍ يَزْدَادُهُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَوْ بِشَيْءٍ يَنْتَفِعُ بِهِ أَحَدُهُمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْإِقَالَةِ، وَإِنَّمَا تَصِيرُ الْإِقَالَةُ إِذَا فَعَلَا ذَلِكَ بَيْعًا، وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِي الْإِقَالَةِ وَالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ مَا لَمْ يَدْخُلْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ، فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ أَوْ نَظِرَةٌ، صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی مثال یہ ہے کہ جب مدت پوری ہوئی اور خریدار نے اناج لینا پسند نہ کیا تو اس اناج کے بدلے میں کچھ روپے ٹھہرا لیے ایک مدت پر، تو یہ اقالہ نہیں ہے، اقالہ وہ ہے جس میں کمی بیشی بائع یا مشتری کی طرف سے نہ ہو، اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا کوئی میعاد بڑھ جائے گی یا کچھ فائدہ مقرر ہوگا بائع کا یا مشتری کا، تو وہ اقالہ بیع سمجھا جائے گا، اور اقالہ اور شرکت اور تولیہ جب تک درست ہیں کہ کمی بیشی یا میعاد نہ ہو، اگر یہ چیزیں ہوں گی تو وہ نئی بیع سمجھیں گے۔ جن وجوہ سے بیع درست ہوتی ہے یہ بھی درست ہوں گی، اور جن وجوہ سے بیع نادرست ہوتی ہے یہ بھی نادرست ہوگی۔
_x000D_
قَالَ مَالِك : مَنْ سَلَّفَ فِي حِنْطَةٍ شَامِيَّةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ مَحْمُولَةً بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص سلف میں عمدہ گیہوں ٹھہرائے، پھر میعاد گزرنے کے بعد اس سے بہتر یا بری لے لے، تو کچھ قباحت نہیں بشرطیکہ وزن وہی ہو جو ٹھہرا ہو، یہی حکم انگور اور کھجور میں ہے۔
قَالَ مَالِك : وَكَذَلِكَ مَنْ سَلَّفَ فِي صِنْفٍ مِنَ الْأَصْنَافِ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ خَيْرًا مِمَّا سَلَّفَ فِيهِ أَوْ أَدْنَى بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ، وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ : أَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي حِنْطَةٍ مَحْمُولَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ شَعِيرًا أَوْ شَامِيَّةً، وَإِنْ سَلَّفَ فِي تَمْرٍ عَجْوَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ صَيْحَانِيًّا أَوْ جَمْعًا، وَإِنْ سَلَّفَ فِي زَبِيبٍ أَحْمَرَ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْخُذَ أَسْوَدَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ بَعْدَ مَحِلِّ الْأَجَلِ إِذَا كَانَتْ مَكِيلَةُ ذَلِكَ سَوَاءً بِمِثْلِ كَيْلِ مَا سَلَّفَ فِيهِ