موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ بَيْعِ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ باب: اناج کو میعاد پر بیچنا جس طرح مکر وہ ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1350
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنِ الرَّجُلِ يَبِيعُ الطَّعَامَ مِنَ الرَّجُلِ بِذَهَبٍ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ يَشْتَرِي بِالذَّهَبِ تَمْرًا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الذَّهَبَ، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ " علامہ وحید الزماں
حضرت کثیر بن فرقد نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے پوچھا: کوئی شخص اناج کو سونے کے بدلے میں میعاد لگا کر بیچے، پھر قبل سونا لینے کے اس کے بدلے میں کھجور خرید لے؟ انہوں نے کہا: یہ مکروہ ہے، اور منع کیا اس سے۔