حدیث نمبر: 1348
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنَ، يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ : إِنِّي رَجُلٌ أَبْتَاعُ مِنَ الْأَرْزَاقِ الَّتِي تُعْطَى النَّاسُ بِالْجَارِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُرِيدُ أَنْ أَبِيعَ الطَّعَامَ الْمَضْمُونَ عَلَيَّ إِلَى أَجَلٍ . فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ : " أَتُرِيدُ أَنْ تُوَفِّيَهُمْ مِنْ تِلْكَ الْأَرْزَاقِ الَّتِي ابْتَعْتَ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ . فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ .
علامہ وحید الزماں

حضرت جمیل بن عبدالرحمٰن نے سعید بن مسیّب سے کہا: میں ان غلوں کو جو سرکار کی طرف سے لوگوں کو مقرر ہیں جار میں خرید کرتا ہوں، پھر میں چاہتا ہوں کہ غلہ کو میعاد لگا کر لوگوں کے ہاتھ بیچوں۔ سعید نے کہا: تو چاہتا ہے ان لوگوں کو اسی غلہ میں سے ادا کرے جو تو نے خریدا ہے۔ جمیل نے کہا: ہاں۔ سعید بن مسیّب نے اس سے منع کیا۔

قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّهُ مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بُرًّا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا أَوْ ذُرَةً أَوْ دُخْنًا أَوْ شَيْئًا مِنَ الْحُبُوبِ الْقِطْنِيَّةِ، أَوْ شَيْئًا مِمَّا يُشْبِهُ الْقِطْنِيَّةَ مِمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، أَوْ شَيْئًا مِنَ الْأُدُمِ كُلِّهَا الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالْخَلِّ وَالْجُبْنِ وَالشِّبرِقِ وَاللَّبَنِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْأُدْمِ، فَإِنَّ الْمُبْتَاعَ لَا يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَيَسْتَوْفِيَهُ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے، جو شخص اناج خرید کرے جیسے گیہوں، جو، جوار، باجرہ اور دالیں وغیرہ جن میں زکوة واجب ہوتی ہے، یا روٹی کے ساتھ کھانے کی چیزیں جیسے زیتون کا تیل، یا گھی، یا شہد، یا سرکہ، یا پنیر، یا دودھ، یا تل کا تیل، اور جو اس کے مشابہ ہیں تو ان میں سے کوئی چیز نہ بیچے جب تک ان پر قبضہ نہ کر لے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب البيوع / حدیث: 1348
درجۂ حدیث محدثین: [مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 46»