موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ تِبْرًا وَعَيْنًا باب: سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک
حدیث نمبر: 1335
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالْآخَرُ نَاجِزٌ، وَإِنِ اسْتَنْظَرَكَ إِلَى أَنْ يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ، إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمُ الرَّمَاءَ " . وَالرَّمَاءُ هُوَ الرِّبَاعلامہ وحید الزماں
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مت بیچو سونے کو بدلے میں سونے کے مگر برابر برابر، نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر، اور نہ بیچو چاندی کے بدلے میں چاندی کے مگر برابر برابر، نہ زیادہ کرو ایک کو دوسرے پر، اور نہ بیچو چاندی کو بدلے میں سونے کے اس طرح پر کہ ایک نقد ہو اور دوسرا وعدے پر، بلکہ تجھ سے اگر اتنی مہلت چاہے کہ اپنے گھر میں سے ہو کر آئے، تو اتنی بھی اجازت مت دے، میں خوف کرتا ہوں تمہارے اوپر سود کا۔