موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ بَيْعِ التَّمْرِ باب: جو بیع کھجوروں کی مکر وہ ہے اس کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " . فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ عَامِلَكَ عَلَى خَيْبَرَ يَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعُوهُ لِي " . فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَبِيعُونَنِي الْجَنِيبَ بِالْجَمْعِ صَاعًا بِصَاعٍ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کو کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو۔“ ایک شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا عامل خیبر پر ایک صاع کھجور لے کر دو صاع دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاؤ اس کو۔“ وہ بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو دو صاع کھجور دے کر ایک صاع لیتا ہے؟ وہ بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایک صاع بہتر کھجور اور ایک صاع بری کھجور کے بدلے میں نہیں آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور کو خرید کر لے۔“