موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب البيوع— کتاب: خرید و فروخت کے احکام میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ باب: عریہ کے بیان میں
حدیث نمبر: 1317
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ " . أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ . يَشُكُّ دَاوُدُ، قَالَ : خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ .علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی عریوں کے بیچنے کی اٹکل سے، بشرطیکہ پانچ وسق سے کم ہوں یا پانچ وسق کے اندر ہوں۔
قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا تُبَاعُ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ يُتَحَرَّى ذَلِكَ، وَيُخْرَصُ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ، وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِيهِ لِأَنَّهُ أُنْزِلَ بِمَنْزِلَةِ التَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ وَالشِّرْكِ، وَلَوْ كَانَ بِمَنْزِلَةِ غَيْرِهِ مِنَ الْبُيُوعِ مَا أَشْرَكَ أَحَدٌ أَحَدًا فِي طَعَامِهِ حَتَّى يَقْبِضَهُ الْمُبْتَاعُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عریہ کا اندازہ درختوں پر کر لیا جائے گا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جائز رکھا، یہ تولیہ یا اقالہ یا شرکت کے مثل ہے، اگر یہ اور بیعوں کے مثل ہوتا تو کھانے کی چیزوں کا تولیہ یا اقالہ یا شرکت قبل قبضے کے نا درست ہے، یہ بھی درست نہ ہوتا۔