حدیث نمبر: 1302
حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ " قَضَى فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ، أَنَّ لِسَيِّدِهِ أَنْ يُسَلِّمَ مَا يَمْلِكُ مِنْهُ إِلَى الْمَجْرُوحِ، فَيَخْتَدِمُهُ الْمَجْرُوحُ وَيُقَاصُّهُ بِجِرَاحِهِ مِنْ دِيَةِ جَرْحِهِ، فَإِنْ أَدَّى قَبْلَ أَنْ يَهْلِكَ سَيِّدُهُ، رَجَعَ إِلَى سَيِّدِهِ " . قَالَ مَالِك : وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ ثُمَّ هَلَكَ سَيِّدُهُ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، أَنَّهُ يُعْتَقُ ثُلُثُهُ، ثُمَّ يُقْسَمُ عَقْلُ الْجَرْحِ أَثْلَاثًا، فَيَكُونُ ثُلُثُ الْعَقْلِ عَلَى الثُّلُثِ الَّذِي عَتَقَ مِنْهُ، وَيَكُونُ ثُلُثَاهُ عَلَى الثُّلُثَيْنِ اللَّذَيْنِ بِأَيْدِي الْوَرَثَةِ، إِنْ شَاءُوا أَسْلَمُوا الَّذِي لَهُمْ مِنْهُ إِلَى صَاحِبِ الْجَرْحِ، وَإِنْ شَاءُوا أَعْطَوْهُ ثُلُثَيِ الْعَقْلِ وَأَمْسَكُوا نَصِيبَهُمْ مِنَ الْعَبْدِ، وَذَلِكَ أَنَّ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ إِنَّمَا كَانَتْ جِنَايَتُهُ مِنَ الْعَبْدِ وَلَمْ تَكُنْ دَيْنًا عَلَى السَّيِّدِ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ الَّذِي أَحْدَثَ الْعَبْدُ بِالَّذِي يُبْطِلُ مَا صَنَعَ السَّيِّدُ مِنْ عِتْقِهِ وَتَدْبِيرِهِ، فَإِنْ كَانَ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ، مَعَ جِنَايَةِ الْعَبْدِ بِيعَ مِنَ الْمُدَبَّرِ بِقَدْرِ عَقْلِ الْجَرْحِ وَقَدْرِ الدَّيْنِ، ثُمَّ يُبَدَّأُ بِالْعَقْلِ الَّذِي كَانَ فِي جِنَايَةِ الْعَبْدِ، فَيُقْضَى مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُقْضَى دَيْنُ سَيِّدِهِ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْعَبْدِ فَيَعْتِقُ ثُلُثُهُ وَيَبْقَى ثُلُثَاهُ لِلْوَرَثَةِ، وَذَلِكَ أَنَّ جِنَايَةَ الْعَبْدِ هِيَ أَوْلَى مِنْ دَيْنِ سَيِّدِهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا هَلَكَ وَتَرَكَ عَبْدًا مُدَبَّرًا قِيمَتُهُ خَمْسُونَ وَمِائَةُ دِينَارٍ، وَكَانَ الْعَبْدُ قَدْ شَجَّ رَجُلًا حُرًّا مُوضِحَةً عَقْلُهَا خَمْسُونَ دِينَارًا وَكَانَ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ مِنَ الدَّيْنِ خَمْسُونَ دِينَارًا . قَالَ مَالِك : فَإِنَّهُ يُبْدَأُ بِالْخَمْسِينَ دِينَارًا الَّتِي فِي عَقْلِ الشَّجَّةِ، فَتُقْضَى مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُقْضَى دَيْنُ سَيِّدِهِ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى مَا بَقِيَ مِنَ الْعَبْدِ، فَيَعْتِقُ ثُلُثُهُ، وَيَبْقَى ثُلُثَاهُ لِلْوَرَثَةِ، فَالْعَقْلُ أَوْجَبُ فِي رَقَبَتِهِ مِنْ دَيْنِ سَيِّدِهِ، وَدَيْنُ سَيِّدِهِ أَوْجَبُ مِنَ التَّدْبِيرِ الَّذِي إِنَّمَا هُوَ وَصِيَّةٌ فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَجُوزَ شَيْءٌ مِنَ التَّدْبِيرِ وَعَلَى سَيِّدِ الْمُدَبَّرِ دَيْنٌ لَمْ يُقْضَ، وَإِنَّمَا هُوَ وَصِيَّةٌ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 . قَالَ مَالِك : فَإِنْ كَانَ فِي ثُلُثِ الْمَيِّتِ مَا يَعْتِقُ فِيهِ الْمُدَبَّرُ كُلُّهُ، عَتَقَ وَكَانَ عَقْلُ جِنَايَتِهِ دَيْنًا عَلَيْهِ يُتَّبَعُ بِهِ بَعْدَ عِتْقِهِ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْعَقْلُ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَذَلِكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى سَيِّدِهِ دَيْنٌ . وَقَالَ مَالِك، فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ رَجُلًا فَأَسْلَمَهُ سَيِّدُهُ إِلَى الْمَجْرُوحِ، ثُمَّ هَلَكَ سَيِّدُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا غَيْرَهُ، فَقَالَ الْوَرَثَةُ : نَحْنُ نُسَلِّمُهُ إِلَى صَاحِبِ الْجُرْحِ، وَقَالَ صَاحِبُ الدَّيْنِ : أَنَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ : إِنَّهُ إِذَا زَادَ الْغَرِيمُ شَيْئًا فَهُوَ أَوْلَى بِهِ، وَيُحَطُّ عَنِ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ قَدْرُ مَا زَادَ الْغَرِيمُ عَلَى دِيَةِ الْجَرْحِ، فَإِنْ لَمْ يَزِدْ شَيْئًا لَمْ يَأْخُذْ الْعَبْدَ . وَقَالَ مَالِك، فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ وَلَهُ مَالٌ، فَأَبَى سَيِّدُهُ أَنْ يَفْتَدِيَهُ : فَإِنَّ الْمَجْرُوحَ يَأْخُذُ مَالَ الْمُدَبَّرِ فِي دِيَةِ جُرْحِهِ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ وَفَاءٌ اسْتَوْفَى الْمَجْرُوحُ دِيَةَ جُرْحِهِ وَرَدَّ الْمُدَبَّرَ إِلَى سَيِّدِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَفَاءٌ اقْتَضَاهُ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ، وَاسْتَعْمَلَ الْمُدَبَّرَ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ
علامہ وحید الزماں

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا کہ جب مدبر کسی شخص کو زخمی کرے تو مولیٰ کو چاہیے کہ مدبر کو مجروح کے حوالے کرے، وہ اس سے خدمت لے اپنے زخم کی دیت کے بدلے میں، جب اس کی دیت ادا ہو جائے اور مولیٰ نہ مرا ہو تو پھر اپنے مولیٰ کے پاس چلا آئے۔

قَالَ مَالِك : وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ ثُمَّ هَلَكَ سَيِّدُهُ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، أَنَّهُ يُعْتَقُ ثُلُثُهُ، ثُمَّ يُقْسَمُ عَقْلُ الْجَرْحِ أَثْلَاثًا، فَيَكُونُ ثُلُثُ الْعَقْلِ عَلَى الثُّلُثِ الَّذِي عَتَقَ مِنْهُ، وَيَكُونُ ثُلُثَاهُ عَلَى الثُّلُثَيْنِ اللَّذَيْنِ بِأَيْدِي الْوَرَثَةِ، إِنْ شَاءُوا أَسْلَمُوا الَّذِي لَهُمْ مِنْهُ إِلَى صَاحِبِ الْجَرْحِ، وَإِنْ شَاءُوا أَعْطَوْهُ ثُلُثَيِ الْعَقْلِ وَأَمْسَكُوا نَصِيبَهُمْ مِنَ الْعَبْدِ، وَذَلِكَ أَنَّ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ إِنَّمَا كَانَتْ جِنَايَتُهُ مِنَ الْعَبْدِ وَلَمْ تَكُنْ دَيْنًا عَلَى السَّيِّدِ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ الَّذِي أَحْدَثَ الْعَبْدُ بِالَّذِي يُبْطِلُ مَا صَنَعَ السَّيِّدُ مِنْ عِتْقِهِ وَتَدْبِيرِهِ، فَإِنْ كَانَ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ، مَعَ جِنَايَةِ الْعَبْدِ بِيعَ مِنَ الْمُدَبَّرِ بِقَدْرِ عَقْلِ الْجَرْحِ وَقَدْرِ الدَّيْنِ، ثُمَّ يُبَدَّأُ بِالْعَقْلِ الَّذِي كَانَ فِي جِنَايَةِ الْعَبْدِ، فَيُقْضَى مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُقْضَى دَيْنُ سَيِّدِهِ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْعَبْدِ فَيَعْتِقُ ثُلُثُهُ وَيَبْقَى ثُلُثَاهُ لِلْوَرَثَةِ، وَذَلِكَ أَنَّ جِنَايَةَ الْعَبْدِ هِيَ أَوْلَى مِنْ دَيْنِ سَيِّدِهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا هَلَكَ وَتَرَكَ عَبْدًا مُدَبَّرًا قِيمَتُهُ خَمْسُونَ وَمِائَةُ دِينَارٍ، وَكَانَ الْعَبْدُ قَدْ شَجَّ رَجُلًا حُرًّا مُوضِحَةً عَقْلُهَا خَمْسُونَ دِينَارًا وَكَانَ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ مِنَ الدَّيْنِ خَمْسُونَ دِينَارًا . قَالَ مَالِك : فَإِنَّهُ يُبْدَأُ بِالْخَمْسِينَ دِينَارًا الَّتِي فِي عَقْلِ الشَّجَّةِ، فَتُقْضَى مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُقْضَى دَيْنُ سَيِّدِهِ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى مَا بَقِيَ مِنَ الْعَبْدِ، فَيَعْتِقُ ثُلُثُهُ، وَيَبْقَى ثُلُثَاهُ لِلْوَرَثَةِ، فَالْعَقْلُ أَوْجَبُ فِي رَقَبَتِهِ مِنْ دَيْنِ سَيِّدِهِ، وَدَيْنُ سَيِّدِهِ أَوْجَبُ مِنَ التَّدْبِيرِ الَّذِي إِنَّمَا هُوَ وَصِيَّةٌ فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَجُوزَ شَيْءٌ مِنَ التَّدْبِيرِ وَعَلَى سَيِّدِ الْمُدَبَّرِ دَيْنٌ لَمْ يُقْضَ، وَإِنَّمَا هُوَ وَصِيَّةٌ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ سورة النساء آية 12 .
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ مدبر اگر کسی شخص کو زخمی کرے، پھر اس کا مولیٰ مر جائے اور سوائے اس کے اور کچھ مال نہ ہو تو تہائی مدبر آزاد ہو جائے گا، پھر زخم کی دیت کے تین حصّے کریں گے، ایک حصّہ تو مدبر کے اس تہائی پر ڈالا جائے گا جو آزاد ہو گیا، اور دو حصّے اُن دو تہائی پر واقع ہوں گے جو ورثہ کے ہاتھ میں ہیں، اب ورثاء کو اختیار ہوگا اگر چاہیں تو اِن دو تہائی کو بھی مدبر کے مجروح کے حوالہ کریں، اگر چاہیں تو دیت کے دو تہائی ادا کریں اور مدبر کے دو تہائی رکھ چھوڑیں، کیونکہ اس زخم کی دیت غلام کی جنایت کے سبب سے ہے، اور سید پر دَین نہیں ہے، تو غلام کے اس قصور سے سید نے جو کام کیا تھا آزادی یا تدبیر باطل نہ ہوگا۔ اگر مولیٰ اس صورت میں قرضدار بھی ہو تو مدبر میں سے موافق دیت کے اور قرضہ کے بیچ کے پہلے دیت کو ادا کریں گے، پھر دَین کو ادا کریں گے، پھر جو کچھ حصہ غلام کا بچ رہے گا اس کا تہائی آزاد ہو جائے گا اور دو تہائی اس کے وارثوں کو ملیں گے، کیونکہ غلام کی جنایت کا تاوان مولیٰ کے قرض پر مقدم ہے، اس کی مثال یہ ہے: ایک شخص مر گیا اور ایک غلام مدبر چھوڑ گیا، جس کی قیمت ڈیڑھ سو دینار ہے، اور اس غلام نے ایک شخص کو زخمی کیا تھا جس کے زخم کی دیت پچاس دینار ہے اور سید پر بھی پچاس دینار کا قرض ہے، تو پہلے مدبر کی قیمت میں سے دیت کے پچاس دینار ادا کریں گے، پھر قرض کے پچاس دینار ادا کریں گے، اب جو کچھ بچ رہا اس کا ایک تہائی آزاد ہو جائے گا اور دو تہائی وارثوں کو ملیں گے، تو دیت قرض سے مقدم ہے اور قرض تدبیر سے مقدم ہے، اور جو وصیت ہے تہائی مال میں تو تدبیر جائز نہ ہوگی جب سید پر دَین ہو جو ہو بلکہ تدبیر ایک وصیت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «﴿مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ [النساء: 12]» اور دین مقدم ہے وصیت پر اجمالاً۔

قَالَ مَالِك : فَإِنْ كَانَ فِي ثُلُثِ الْمَيِّتِ مَا يَعْتِقُ فِيهِ الْمُدَبَّرُ كُلُّهُ، عَتَقَ وَكَانَ عَقْلُ جِنَايَتِهِ دَيْنًا عَلَيْهِ يُتَّبَعُ بِهِ بَعْدَ عِتْقِهِ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْعَقْلُ الدِّيَةَ كَامِلَةً، وَذَلِكَ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى سَيِّدِهِ دَيْنٌ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مدبر تہائی مال میں سے آزاد ہو سکتا ہے تو آزاد ہو جائے گا، اور زخم کی دیت اس پر دَین رہے گی اگرچہ یہ پوری دیت ہو، بعد آزادی کے اس سے مؤاخذہ کیا جائے گا جب سید پر کچھ دَین نہ ہو۔

وَقَالَ مَالِك، فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ رَجُلًا فَأَسْلَمَهُ سَيِّدُهُ إِلَى الْمَجْرُوحِ، ثُمَّ هَلَكَ سَيِّدُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا غَيْرَهُ، فَقَالَ الْوَرَثَةُ : نَحْنُ نُسَلِّمُهُ إِلَى صَاحِبِ الْجُرْحِ، وَقَالَ صَاحِبُ الدَّيْنِ : أَنَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ : إِنَّهُ إِذَا زَادَ الْغَرِيمُ شَيْئًا فَهُوَ أَوْلَى بِهِ، وَيُحَطُّ عَنِ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ قَدْرُ مَا زَادَ الْغَرِيمُ عَلَى دِيَةِ الْجَرْحِ، فَإِنْ لَمْ يَزِدْ شَيْئًا لَمْ يَأْخُذْ الْعَبْدَ .
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مدبر جب کسی شخص کو زخمی کرے اور مولیٰ اس کو مجروح کے حوالے کر دے، پھر مولیٰ قرضدار ہو کر مر جائے اور سوائے اس کے کچھ مال نہ چھوڑے، پھر وارث یہ کہیں کہ ہم مدبر کو مجروح کے حوالے کرتے ہیں، اور قرض خواہ یہ کہے کہ مدبر اگر مجھ کو ملے تو دیت سے زیادہ میں قیمت دیتا ہوں، اس صورت میں وہ مدبر قرض خواہ کے حوالے کیا جائے گا، اور جس قدر قرض خواہ نے دیت سے زیادہ دیا ہے اتنا قرضہ مولیٰ کے ذمے سے ساقط ہوگا، اگر دیت سے زیادہ نہ دے تو قرض خواہ اس مدبر کو نہ لے سکے گا۔

وَقَالَ مَالِك، فِي الْمُدَبَّرِ إِذَا جَرَحَ وَلَهُ مَالٌ، فَأَبَى سَيِّدُهُ أَنْ يَفْتَدِيَهُ : فَإِنَّ الْمَجْرُوحَ يَأْخُذُ مَالَ الْمُدَبَّرِ فِي دِيَةِ جُرْحِهِ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ وَفَاءٌ اسْتَوْفَى الْمَجْرُوحُ دِيَةَ جُرْحِهِ وَرَدَّ الْمُدَبَّرَ إِلَى سَيِّدِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ وَفَاءٌ اقْتَضَاهُ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ، وَاسْتَعْمَلَ الْمُدَبَّرَ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِيَةِ جُرْحِهِ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مدبر مالدار ہو اور کسی شخص کو زخمی کرے، پھر مولیٰ دیت دینے سے انکار کرے تو جو شخص زخمی ہوا ہے وہ مدبر کا مال اپنی دیت میں لے گا، اگر اس کی دیت اسی مال میں پوری ہو گئی تو مدبر اس کے مولیٰ کے حوالے کرے گا، ورنہ جس قدر دیت باقی رہ گئی ہے اسی قدر خدمت مدبر سے لے گا۔

قَالَ مَالِكٌ فِي أُمِّ الْوَلَدِ تَجْرَحُ : إِنَّ عَقْلَ ذَلِكَ الْجَرْحِ ضَامِنٌ عَلَى سَيِّدِهَا فِي مَالِهِ. إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَقْلُ ذَلِكَ الْجَرْحِ أَكْثَرَ مِنْ قِيمَةِ أُمِّ الْوَلَدِ. فَلَيْسَ عَلَى سَيِّدِهَا أَنْ يُخْرِجَ أَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا. وَذَلِكَ أَنَّ رَبَّ الْعَبْدِ أَوِ الْوَلِيدَةِ. إِذَا أَسْلَمَ غُلَامَهُ أَوْ وَلِيدَتَهُ، بِجُرْحٍ أَصَابَهُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا. فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، وَإِنْ كَثُرَ الْعَقْلُ. فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ سَيِّدُ أُمِّ الْوَلَدِ أَنْ يُسَلِّمَهَا، لِمَا مَضَى فِي ذَلِكَ مِنَ السُّنَّةِ، فَإِنَّهُ إِذَا أَخْرَجَ قِيمَتَهَا فَكَأَنَّهُ أَسْلَمَهَا. فَلَيْسَ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ. وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ. وَلَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يَحْمِلَ مِنْ جِنَايَتِهَا أَكْثَرَ مِنْ قِيمَتِهَا.
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر اُم ولد کسی شخص کو زخمی کرے تو دیت اس کے مولیٰ کو دینا ہوگی، مگر جس صورت میں دیت اُم ولد کی قیمت سے زیادہ ہو تو مولیٰ پر لازم نہیں کہ اس لونڈٰی یا غلام کو صاحب جنایت کے حوالے کرے، اگرچہ دیت کتنی ہو اس لونڈی یا غلام کی قیمت سے زیادہ ہو، اب یہاں پر اُم ولد کا مولیٰ یہ تو نہیں کر سکتا کہ اُم ولد کو صاحب جنایت کے حوالے کرے، اس لیے کہ اُم ولد کی بیع یا ہبہ اور کسی طور سے نقل ملک درست نہیں، بلکہ خلاف ہے سنتِ قدیمہ کے۔ جب ایسا ہوا تو قیمت اُم ولد کی خود اُم ولد کے قائم مقام ہے، اس سے زیادہ مولیٰ پر لازم نہیں، یہ میں نے بہت اچھا سنا کہ مولیٰ پر اُم ولد کی قیمت سے زیادہ جنایت میں دینا لازم نہیں۔

عَنْ مَّالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَضَىٰ أَحَدُهُمَا فِي امْرَأَةٍ غَرَّتْ رَجُلًا بِنَفْسِهَا وَذَكَرَتْ أَنَّهَا هُرَّةٌ، فَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا فَقَضَىٰ أَنْ يُّفْدِيَ وَلَدَهُ بِمِثْلِهِمْ.
علامہ وحید الزماں

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے حکم کیا: جو عورت دھوکا دے کر کسی سے کہے: میں آزاد ہوں، پھر نکاح کرے اور اولاد پیدا ہو، بعد اس کے وہ کسی کی لونڈی نکلے، تو اپنی اولاد کی مثل غلام لونڈی دے کر اپنی اولاد کو چھڑا سکتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک قیمت دینا بہتر ہے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب المدبر / حدیث: 1302
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 27319، فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 7»