موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ وَقْتِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 13
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي سَلِيطٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، " صَلَّى الْجُمُعَةَ بِالْمَدِينَةِ وَصَلَّى الْعَصْرَ بِمَلَلٍ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَذَلِكَ لِلتَّهْجِيرِ وَسُرْعَةِ السَّيْرِعلامہ وحید الزماں
حضرت عبداللہ ابن اسید بن عمرو بن قیس سے روایت ہے کہ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں جمعہ کی نماز پڑھی اور عصر کی ملل میں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت عبداللہ ابن اسید بن عمرو بن قیس سے روایت ہے کہ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں جمعہ کی نماز پڑھی اور عصر کی ملل میں۔ [موطا امام مالك: 13]
فائدہ:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زوالِ آفتاب کے فوراً بعد جمعہ ادا کر لیا، پھر اسی وقت مکہ کی طرف چل پڑے اور مکہ و مدینہ کے درمیان ”مَلَل“ جگہ پر عصر کے وقت تک پہنچ گئے جو مدینہ سے 22 میل یعنی تقریباً 53 کلو میٹر دور تھی، بعض نے سترہ یا اٹھارہ میل کا فاصلہ بیان کیا ہے، الغرض اس دور میں جمعہ جلدی ادا کیا جاتا تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے زوالِ آفتاب کے فوراً بعد جمعہ ادا کر لیا، پھر اسی وقت مکہ کی طرف چل پڑے اور مکہ و مدینہ کے درمیان ”مَلَل“ جگہ پر عصر کے وقت تک پہنچ گئے جو مدینہ سے 22 میل یعنی تقریباً 53 کلو میٹر دور تھی، بعض نے سترہ یا اٹھارہ میل کا فاصلہ بیان کیا ہے، الغرض اس دور میں جمعہ جلدی ادا کیا جاتا تھا۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 13 سے ماخوذ ہے۔