موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب المكاتب— کتاب: مکاتب کے بیان میں
بَابُ الْقَضَاءِ فِي الْمُكَاتَبِ باب: مکاتب کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1294
وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، كَانَا يَقُولَانِ : " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ شَيْءٌ "علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار کہتے تھے: مکاتب غلام ہے جب تک اس پر کچھ بھی بدل کتاب میں سے باقی ہے۔
قَالَ مَالِك : وَهُوَ رَأْيِي . قَالَ مَالِك : فَإِنْ هَلَكَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا أَكْثَرَ مِمَّا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ، وَلَهُ وَلَدٌ وُلِدُوا فِي كِتَابَتِهِ أَوْ كَاتَبَ عَلَيْهِمْ، وَرِثُوا مَا بَقِيَ مِنَ الْمَالِ بَعْدَ قَضَاءِ كِتَابَتِهِعلامہ وحید الزماں
_x000D_ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میری رائے یہی ہے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر مکاتب اپنی بدل کتابت سے زیادہ مال چھوڑ کر مر جائے، اور اپنی اولاد کو جو حالت کتابت میں پیدا ہوئی تھی، یا عقد کتابت میں داخل تھی، چھوڑ جائے، تو پہلے اس کے مال میں سے بدل کتابت ادا کریں گے، پھر جس قدر بچ رہے گا اس کی وارث مکاتب کی اولاد ہوگی۔