موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العتق والولاء— کتاب: عتق اور ولاء کے بیان میں
بَابُ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ وَوَلَاءِ مَنْ أَعْتَقَ الْيَهُودِيَّ وَالنَّصْرَانِيَّ باب: سائبہ کی میراث کا بیان اور اس غلام کی ولاء کا بیان جس کو یہودی یانصرانی آزاد کرے
وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ السَّائِبَةِ، قَالَ : " يُوَالِي مَنْ شَاءَ، فَإِنْ مَاتَ وَلَمْ يُوَالِي أَحَدًا، فَمِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلُهُ عَلَيْهِمْ " .امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے پوچھا سائبہ کا حکم؟ انہوں نے کہا: سائبہ جس شخص سے چاہے عقد موالات کرے، اگر مر جائے اور کسی سے موالات نہ کرے تو اس کی میراث مسلمانوں کو ملے گی، اگر وہ جنایت کریں گے تو دیت بھی وہی دیں گے۔
قَالَ مَالِك : إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي السَّائِبَةِ، أَنَّهُ لَا يُوَالِي أَحَدًا، وَأَنَّ مِيرَاثَهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَعَقْلَهُ عَلَيْهِمْ . قَالَ مَالِك، فِي الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ يُسْلِمُ عَبْدُ أَحَدِهِمَا فَيُعْتِقُهُ قَبْلَ أَنْ يُبَاعَ عَلَيْهِ : إِنَّ وَلَاءَ الْعَبْدِ الْمُعْتَقِ لِلْمُسْلِمِينَ، وَإِنْ أَسْلَمَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ الْوَلَاءُ أَبَدًا . قَالَ : وَلَكِنْ إِذَا أَعْتَقَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ عَبْدًا عَلَى دِينِهِمَا، ثُمَّ أَسْلَمَ الْمُعْتَقُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الْيَهُودِيُّ أَوِ النَّصْرَانِيُّ الَّذِي أَعْتَقَهُ، ثُمَّ أَسْلَمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ رَجَعَ إِلَيْهِ الْوَلَاءُ، لِأَنَّهُ قَدْ كَانَ ثَبَتَ لَهُ الْوَلَاءُ يَوْمَ أَعْتَقَهُ .امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ ہے کہ سائبہ کسی سے عقد موالات نہ کرے، اور میراث اس کی مسلمانوں کو ملے گی اور دیت بھی وہی دیں گے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر یہودی یا نصرانی کا غلام مسلمان ہو جائے، پھر وہ اس کو آزاد کر دے تو اس کی ولاء مسلمانوں کو ملے گی، اگر بعد اس کے وہ یہودی یا نصرانی بھی مسلمان ہو جائے تو وہ ولاء اس کی طرف نہ جائے گی، البتہ اگر یہودی یا نصرانی غلام کو آزاد کر دے پھر وہ غلام مسلمان ہو جائے، بعد اس کے اس کا مالک مسلمان ہو جائے تو ولاء اسی کو ملے گی۔ اس لیے کہ آزادی کے دن بھی ولاء کا مستحق وہی تھا۔
. قَالَ مَالِك : وَإِنْ كَانَ لِلْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ وَلَدٌ مُسْلِمٌ، وَرِثَ مَوَالِيَ أَبِيهِ الْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا أَسْلَمَ الْمَوْلَى الْمُعْتَقُ، قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ الَّذِي أَعْتَقَهُ، وَإِنْ كَانَ الْمُعْتَقُ حِينَ أُعْتِقَ مُسْلِمًا، لَمْ يَكُنْ لِوَلَدِ النَّصْرَانِيِّ أَوِ الْيَهُودِيِّ الْمُسْلِمَيْنِ مِنْ وَلَاءِ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ، لِأَنَّهُ لَيْسَ لِلْيَهُودِيِّ وَلَا لِلنَّصْرَانِيِّ وَلَاءٌ، فَوَلَاءُ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَکہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر یہودی یا نصرانی کا لڑکا مسلمان ہو تو وہ اپنے باپ کے آزاد کیے ہوئے غلام کی ولاء پائے گا جب وہ غلام مسلمان ہو گیا ہو، مگر باپ اس کا مسلمان نہ ہوا ہو جس نے آزاد کیا ہے، اور اگر وہ غلام آزادی کے وقت بھی مسلمان تھا تو یہودی یا نصرانی کے مسلمان لڑکے کو ولاء نہ ہوگی بلکہ وہ مسلمانوں کا حق ہوگی۔