موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العتق والولاء— کتاب: عتق اور ولاء کے بیان میں
بَابُ مِيرَاثِ الْوَلَاءِ باب: ولاء کی میراث کا بیان
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْعَاصِيَ بْنَ هِشَامٍ هَلَكَ وَتَرَكَ بَنِينَ لَهُ ثَلَاثَةً، اثْنَانِ لِأُمٍّ وَرَجُلٌ لِعَلَّةٍ، فَهَلَكَ أَحَدُ اللَّذَيْنِ لِأُمٍّ وَتَرَكَ مَالًا وَمَوَالِيَ، فَوَرِثَهُ أَخُوهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ مَالَهُ وَوَلَاءَهُ مَوَالِيهِ، ثُمَّ هَلَكَ الَّذِي وَرِثَ الْمَالَ وَوَلَاءَ الْمَوَالِي وَتَرَكَ ابْنَهُ وَأَخَاهُ لِأَبِيهِ، فَقَالَ ابْنُهُ : قَدْ أَحْرَزْتُ مَا كَانَ أَبِي أَحْرَزَ مِنَ الْمَالِ وَوَلَاءِ الْمَوَالِي . وَقَالَ أَخُوهُ : لَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّمَا أَحْرَزْتَ الْمَالَ وَأَمَّا وَلَاءُ الْمَوَالِي، فَلَا أَرَأَيْتَ لَوْ هَلَكَ أَخِي الْيَوْمَ أَلَسْتُ أَرِثُهُ أَنَا ؟ " فَاخْتَصَمَا إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَضَى لِأَخِيهِ بِوَلَاءِ الْمَوَالِي " حضرت عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عاصی بن ہشام مر گئے اور تین بیٹے چھوڑ گئے، دو اس میں سے سگے بھائی تھے اور ایک سوتیلا (یعنی ماں اس کی اور تھی)، تو سگے بھائیوں میں سے ایک بھائی مر گیا اور مال اور غلام آزاد کئے ہوئے چھوڑ گیا، اس کا وارث سگا بھائی ہوا، مال اور غلاموں کی سب ولاء اس نے لی۔ پھر وہ بھائی بھی مر گیا اور ایک بیٹا اور سوتیلا بھائی (یعنی وہ عاصی بن ہشام کا بیٹا) چھوڑ گیا، بیٹے نے کہا: میں اپنے باپ کے مال اور ولاء کا مالک ہوں۔ بھائی نے کہا: بے شک مال کا تو مالک ہے مگر ولاء کا مالک نہیں۔ فرض کر کہ اگر پہلا بھائی میرا آج مرتا تو میں اس کا وارث ہوتا، تو پھر دونوں نے جھگڑا کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ رضی اللہ عنہ نے ولاء بھائی کو دلائی۔