موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العتق والولاء— کتاب: عتق اور ولاء کے بیان میں
بَابُ مَصِيرِ الْوَلَاءِ لِمَنْ أَعْتَقَ باب: ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا : نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا . فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : لَا يَمْنَعَنَّكِ ذَلِكَ " فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ¤ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ، ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ.“سیدہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ آئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد مانگنے کو، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر تیرے لوگوں کو منظور ہو کہ میں یک مشت ان کو تیری قیمت ادا کردوں اور تجھ کو آزاد کر دوں تو میں راضی ہوں۔ بریرہ نے یہ اپنے لوگوں سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم نہیں بیچیں گے مگر اس شرط سے کہ ولاء ہم کو ملے۔
یحییٰ بن سعید نے کہا کہ حضرت عمرہ نے کہا کہ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خرید کر آزاد کر دے کیونکہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کر دے گا۔“