موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العتق والولاء— کتاب: عتق اور ولاء کے بیان میں
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْعِتْقِ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ باب: جس لونڈی یا غلام کا عتاق واجب میں آزاد کرنا درست ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1277
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ " الرَّجُلِ تَكُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ، هَلْ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا ؟ قَالَ : نَعَمْ، ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ " علامہ وحید الزماں
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہو گیا وہ ولدِ زنا کو آزاد کر سکتا ہے؟ جواب دیا: ہاں، کر سکتا ہے۔