موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب العتق والولاء— کتاب: عتق اور ولاء کے بیان میں
بَابُ عِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ وَجَامِعِ الْقَضَاءِ فِي الْعَتَاقَةِ باب: اُم ولد کا آزاد ہونا اور آزاد کرنے کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 1273
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ أَوْ أَصَابَهَا بِهَا، فَأَعْتَقَهَا " .علامہ وحید الزماں
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی آئی جس کو اس کے مولیٰ نے آگ میں جلایا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو آزاد کر دیا۔
. قَالَ مَالِك : الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ، وَأَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ أَوْ يَبْلُغَ مَبْلَغَ الْمُحْتَلِمِ، وَأَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَإِنْ بَلَغَ الْحُلُمَ حَتَّى يَلِيَ مَالَهُعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص پر اتنا قرض ہو کہ سارا مال اس کا قرض میں جا سکے، وہ اگر غلام یا لونڈی کو آزاد کر دے تو درست نہیں۔ اسی طرح نابالغ کو آزاد کرنا اپنے غلام یا لونڈی کا درست نہیں جب تک بالغ نہ ہو جائے، نہ اس کے ولی کو جب تک ولایت اس کی قائم ہے۔