موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرضاعة— کتاب: رضاعت کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الرَّضَاعَةِ باب: رضاعت کی مختلف حدیثوں کا بیان
حدیث نمبر: 1267
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، " فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ " ، قَالَ يَحْيَى : قَالَ مَالِكٌ : وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُعلامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پہلے قرآن شریف میں یہ اُترا تھا کہ دس بار دودھ پلائے تو حرمت ثابت ہوتی ہے، پھر منسوخ ہو گیا اور پانچ بار پلانا ٹھہرا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور لوگ اس کو قرآن پڑھتے تھے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ بلکہ قلیل اور کثیر دونوں رضاعت سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔