موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرضاعة— کتاب: رضاعت کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّضَاعَةِ بَعْدَ الْكِبَرِ باب: بڑے پن میں رضاعت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَقَالَ : إِنِّي مَصِصْتُ عَنِ امْرَأَتِي مِنْ ثَدْيِهَا لَبَنًا، فَذَهَبَ فِي بَطْنِي، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : " انْظُرْ مَاذَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ ؟ " فَقَالَ أَبُو مُوسَى : فَمَاذَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : " لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ " . فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ، مَا كَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْیحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں اپنی عورت کا دودھ چھاتی سے چوس رہا تھا، وہ میرے پیٹ میں چلا گیا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے نزدیک وہ عورت تجھ پر حرام ہو گئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو کیا مسئلہ بتاتے ہو اس شخص کو۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بولے: اچھا تم کیا کہتے ہو؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رضاعت وہ ہے جو دو برس کے اندر ہو۔ جب سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے کچھ مت پوچھا کرو جب تک یہ عالم تم میں موجود ہے (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہا)۔