حدیث نمبر: 1264
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، فَقَالَ : إِنِّي مَصِصْتُ عَنِ امْرَأَتِي مِنْ ثَدْيِهَا لَبَنًا، فَذَهَبَ فِي بَطْنِي، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : " انْظُرْ مَاذَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ ؟ " فَقَالَ أَبُو مُوسَى : فَمَاذَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : " لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ " . فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ، مَا كَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
علامہ وحید الزماں

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں اپنی عورت کا دودھ چھاتی سے چوس رہا تھا، وہ میرے پیٹ میں چلا گیا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے نزدیک وہ عورت تجھ پر حرام ہو گئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو کیا مسئلہ بتاتے ہو اس شخص کو۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بولے: اچھا تم کیا کہتے ہو؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رضاعت وہ ہے جو دو برس کے اندر ہو۔ جب سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے کچھ مت پوچھا کرو جب تک یہ عالم تم میں موجود ہے (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہا)۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرضاعة / حدیث: 1264
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 2059، 2060، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 974، 975، 987، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15664، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4358، 4361، 4362، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4196، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13895، 13896، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17308، 17331، 17332، والطبراني فى "الكبير"، 8499، 8500، فواد عبدالباقي نمبر: 30 - كِتَابُ الرَّضَاعِ-ح: 14»