حدیث نمبر: 1263
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَنَا مَعَهُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَاءِ، يَسْأَلُهُ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ : إِنِّي كَانَتْ لِي وَلِيدَةٌ، وَكُنْتُ أَطَؤُهَا، فَعَمَدَتِ امْرَأَتِي إِلَيْهَا، فَأَرْضَعَتْهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ : دُونَكَ فَقَدْ وَاللَّهِ أَرْضَعْتُهَا، فَقَالَ عُمَرُ : " أَوْجِعْهَا وَأْتِ جَارِيَتَكَ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ "
علامہ وحید الزماں

حضرت عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں ان کے ساتھ تھا دار القضا کے پا س۔ پوچھنے لگا بڑے آدمی کی رضاعت کا کیا حکم ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا بولا: میری ایک لونڈی تھی، اس سے میں صحبت کیا کرتا تھا۔ میری جورو نے قصداً اسے دودھ پلا دیا، جب میں اس کے پاس جانے لگا بولی: سن لے، قسم اللہ کی! میں اس کو دودھ پلا چکی ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی بی بی کو سزا دے اور اپنی لونڈی سے صحبت کر۔ رضاعت چھوٹے پن میں ہوتی ہے (نہ بڑھ پن میں)۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الرضاعة / حدیث: 1263
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15759، 15659، 15660، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4733، والشافعي فى «الاُم » برقم: 29/5، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13890، 13930، فواد عبدالباقي نمبر: 30 - كِتَابُ الرَّضَاعِ-ح: 13»