موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرضاعة— کتاب: رضاعت کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّضَاعَةِ بَعْدَ الْكِبَرِ باب: بڑے پن میں رضاعت کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَنَا مَعَهُ عِنْدَ دَارِ الْقَضَاءِ، يَسْأَلُهُ عَنْ رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ : إِنِّي كَانَتْ لِي وَلِيدَةٌ، وَكُنْتُ أَطَؤُهَا، فَعَمَدَتِ امْرَأَتِي إِلَيْهَا، فَأَرْضَعَتْهَا فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ : دُونَكَ فَقَدْ وَاللَّهِ أَرْضَعْتُهَا، فَقَالَ عُمَرُ : " أَوْجِعْهَا وَأْتِ جَارِيَتَكَ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ رَضَاعَةُ الصَّغِيرِ " حضرت عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں ان کے ساتھ تھا دار القضا کے پا س۔ پوچھنے لگا بڑے آدمی کی رضاعت کا کیا حکم ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا بولا: میری ایک لونڈی تھی، اس سے میں صحبت کیا کرتا تھا۔ میری جورو نے قصداً اسے دودھ پلا دیا، جب میں اس کے پاس جانے لگا بولی: سن لے، قسم اللہ کی! میں اس کو دودھ پلا چکی ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی بی بی کو سزا دے اور اپنی لونڈی سے صحبت کر۔ رضاعت چھوٹے پن میں ہوتی ہے (نہ بڑھ پن میں)۔