موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرضاعة— کتاب: رضاعت کے بیان میں
بَابُ رَضَاعَةِ الصَّغِيرِ باب: بچے کو دودھ پلانے کا بیان
حدیث نمبر: 1261
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " الرَّضَاعَةُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا تُحَرِّمُ، وَالرَّضَاعَةُ مِنْ قِبَلِ الرِّجَالِ تُحَرِّمُ " . قَالَ يَحْيَى : وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ : الرَّضَاعَةُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا إِذَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ تُحَرِّمُ، فَأَمَّا مَا كَانَ بَعْدَ الْحَوْلَيْنِ، فَإِنَّ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، وَإِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِعلامہ وحید الزماں
ابن شہاب کہتے تھے: رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ حرمت ثابت کر دیتی ہے، اور رضاعت مردوں کی طرف سے بھی حرمت ثابت کر دیتی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: دو برس کے اندر رضاعت قلیل ہو یا کثیر حرمت ثابت کر دتیی ہے، اور دو برس کے بعد کی رضاعت سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، بلکہ وہ مثل اور کھانوں کے ہے۔