موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرضاعة— کتاب: رضاعت کے بیان میں
بَابُ رَضَاعَةِ الصَّغِيرِ باب: بچے کو دودھ پلانے کا بیان
حدیث نمبر: 1256
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَى أُخْتِهَا أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقَالَتْ : " أَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيَّ "، قَالَ سَالِمٌ : فَأَرْضَعَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ثَلَاثَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ مَرِضَتْ، فَلَمْ تُرْضِعْنِي غَيْرَ ثَلَاثِ رَضَعَاتٍ، فَلَمْ أَكُنْ أَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ لَمْ تُتِمّ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سالم بن عبداللہ کو جب وہ شیر خوار تھے، اپنی بہن اُم کلثوم کے پاس بھیجا، اس لئے کہ دس بار اس کو دودھ پلائیں، تو بغیر پردہ کے میرے سامنے آجائیں، سالم نے کہا: اُم کلثوم نے مجھ کو تین بار دودھ پلایا، بعد اس کے وہ بیمار ہو گئیں، اس لئے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے نہیں جاتا کیونکہ میں نے اُم کلثوم کا دس بار دودھ نہیں پیا تھا۔