موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الرضاعة— کتاب: رضاعت کے بیان میں
بَابُ رَضَاعَةِ الصَّغِيرِ باب: بچے کو دودھ پلانے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ : جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ، حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ : " إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ "، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ : " إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَذَلِكَ بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ . وَقَالَتْ عَائِشَةُ : " يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ " سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرا رضاعی چچا میرے پاس آیا اور مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اجازت نہ دوں گی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا چچا ہے، تو اس کو آنے کی اجازت دے دے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھ کو تو عورت نے دودھ پلایا تھا، مرد کا اس سے کیا تعلق؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا چچا ہے، بے شک تیرے پاس آئے گا۔“ اور یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب آیتِ حجاب اُتر چکی تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جو رشتے نسب سے حرام ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہیں۔