موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَقَامِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي بَيْتِهَا حَتَّى تَحِلَّ باب: جس عورت کا خاوند مر جائے اس کو عدت تک اسی گھر میں رہنے کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، قَالَتْ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ، وَلَا نَفَقَةٍ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ "، قَالَتْ : فَانْصَرَفْتُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ، نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَمَرَ بِي فَنُودِيتُ لَهُ، فَقَالَ : " كَيْفَ قُلْتِ ؟ " فَرَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، فَقَالَ : " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " ، قَالَتْ : فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . قَالَتْ : فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِحضرت زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ سیدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور پوچھا کہ مجھے اپنے لوگوں میں جانے کی اجازت ہے؟ کیونکہ میرے خاوند کے چند غلام بھاگ گئے تھے، وہ ان کو ڈھونڈنے کو نکلے، جب قدوم (ایک مقام ہے مدینہ سے سات میل پر) میں پہنچے وہاں غلاموں کو پایا، اور غلاموں نے میرے خاوند کو مار ڈالا، اور میرا خاوند میرے لیے نہ کوئی ذاتی مکان چھوڑ گیا ہے نہ کچھ خرچ دے گیا ہے، اگر آپ کہیے تو میں اپنے کنبے والوں کے پاس چلی جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلی جا۔“ جب میں لوٹ کر چلی، حجرہ کے باہر نہیں پہنچی تھی کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا، یا کسی اور نے آپ کے کہنے پر پکارا، اور مجھ سے پوچھا، میں نے سارا قصہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی گھر میں رہ یہاں تک کہ عدت پوری ہو۔“ میں نے اسی گھر میں عدت کی چار مہینہ دس دن تک، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے انہوں نے مجھ سے یہ مسئلہ پوچھوا بھیجا، اور اسی کے موافق حکم کیا۔