موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا باب: جب حامله عورت كا خاوند مر جائے اس كی عدت كا بيان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ : " إِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، فَقَدْ حَلَّتْ "، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " آخِرَ الْأَجَلَيْنِ "، فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ : وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : " قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ " . قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا الْأَمْرُ الَّذِي لَمْ يَزَلْ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ عِنْدَنَاسلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اس عورت کی عدت میں اختلاف کیا جو خاوند کے مرنے کے پندرہ دن کے بعد بچہ جنے۔ ابوسلمہ نے کہا: جب وہ بچہ جنے تو اس کی عدت گزر گئی، اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں، دونوں عدتوں میں جو دور ہو وہاں تک انتظار کرے، اتنے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں، پھر ان سب لوگوں نے کریب کو جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مولٰی تھے، بھیجا اُم المؤمنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس مسئلے کو پوچھنے کے واسطے۔ انہوں نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کے مرنے کے چند روز کے بعد جنی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ نے فرمایا: ”تو حلال ہوگئی، جس سے چاہے نکاح کرے۔“
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہی حکم ہے، اور ہمارے شہر کے عالم اسی مذہب پر رہے۔