موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا كَانَتْ حَامِلًا باب: جب حامله عورت كا خاوند مر جائے اس كی عدت كا بيان
حدیث نمبر: 1224
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، فَقَدْ حَلَّتْ " . فَأَخْبَرَهُ فَأَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ عِنْدَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " لَوْ وَضَعَتْ وَزَوْجُهَا عَلَى سَرِيرِهِ لَمْ يُدْفَنْ بَعْدُ، لَحَلَّتْ " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ اگر حاملہ عورت کا خاوند مر جائے تو اس کی عدت کیا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب وہ بچہ جنے اس کی عدت پوری ہوگئی۔ اتنے میں ایک شخص انصاری نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر خاوند کا جنازہ تخت پر رکھا ہوا ہو اور اس کی عورت بچہ جنے تو اس کی عدت گزر جائے گی۔