موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ الطَّلَاقِ باب: طلاق کی مختلف حدیثوں کا بیان
حدیث نمبر: 1220
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّ " الرَّجُلَ كَانَ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا، وَلَا حَاجَةَ لَهُ بِهَا، وَلَا يُرِيدُ إِمْسَاكَهَا كَيْمَا يُطَوِّلُ بِذَلِكَ عَلَيْهَا الْعِدَّةَ لِيُضَارَّهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ سورة البقرة آية 231 يَعِظُهُمُ اللَّهُ بِذَلِكَ علامہ وحید الزماں
حضرت ثور بن زید دیلی سے روایت ہے کہ اگلے زمانہ میں لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دیتے تھے پھر رجعت کر لیتے تھے اور اُن کے رکھنے کی نیت نہ ہوتی تھی تاکہ ان کی عدت بڑھ جائے اور ان کو ضرر پہنچے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ”مت رکھو عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لیے، جو ایسا کرے گا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔“ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہے۔