مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنْتُ أَرَى طِنْفِسَةً لِعَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، تُطْرَحُ إِلَى جِدَارِ الْمَسْجِدِ الْغَرْبِيِّ . فَإِذَا غَشِيَ الطِّنْفِسَةَ كُلَّهَا ظِلُّ الْجِدَارِ ، خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَصَلَّى الْجُمُعَةَ " . قَالَ مَالِكٌ وَالِدُ أَبِي سُهَيْلٍ : ثُمَّ نَرْجِعُ بَعْدَ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ فَنَقِيلُ قَائِلَةَ الضَّحَاءِ
علامہ وحید الزماں

مالک بن ابی عامر اصبحی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں دیکھتا تھا ایک بوریا سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ڈالا جاتا تھا جمعہ کے دن مسجدِ نبوی کے پچھّم کی طرف کی دیوار کے تلے، تو جب سارے بوریا پر دیوار کا سایہ آجاتا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نکلتے اور جمعہ کی نماز پڑھتے۔ مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم بعد نماز کے آکر چاشت کے عوض سو رہا کرتے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 12
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
ایک بوریا سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ڈالا جاتا تھا جمعہ کے دن مسجدِ نبوی کے پچھّم کی طرف کی دیوار کے تلے، تو جب سارے بوریا پر دیوار کا سایہ آجاتا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نکلتے اور جمعہ کی نماز پڑھتے۔ مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم بعد نماز کے آکر چاشت کے عوض سو رہا کرتے۔ [موطا امام مالك: 12]
فائدہ:

مسجد نبوی میں جب قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں تو دائیں جانب مغرب کی سمت ہے، اسی جانب مسجد کی مغربی دیوار ہے جس کے ساتھ مسجد کے اندر حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کی دری بچھا دی جاتی، جب سورج سر پر پہنچ کر مغرب کی طرف ڈھل جاتا تو سایہ دری پر پڑنے لگتا، چنانچہ مزید تھوڑی دیر انتظار کے بعد سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ جمعہ پڑھا دیتے، پھر جن لوگوں نے نمازِ جمعہ کے لیے جلدی آنے کا اجر و ثواب پانے کی خاطر دوپہر کا کھانا اور قیلولہ چھوڑا ہوتا تھا، وہ بعد میں جا کر کھانا بھی کھا لیتے اور قیلولہ بھی کر لیتے تھے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 12 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔