موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَقْرَاءِ وَعِدَّةِ الطَّلَاقِ وَطَلَاقِ الْحَائِضِ باب: قراء اور طلاق کی عدت کا اور حائضہ کی طلاق کا بیان
حدیث نمبر: 1192
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا انْتَقَلَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ حِينَ دَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَقَالَتْ : صَدَقَ عُرْوَةُ وَقَدْ جَادَلَهَا فِي ذَلِكَ نَاسٌ، فَقَالُوا : إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ : ﴿ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [البقرة: 228] فَقَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقْتُمْ، تَدْرُونَ مَا الْأَقْرَاءُ؟ إِنَّمَا الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ.علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمٰن کو عدت سے اٹھا دیا جب تیسرا حیض شروع ہوا۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے بیان کیا۔ عمرہ نے کہا: عروہ نے سچ کہا، بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس باب میں لوگوں نے جھگڑا کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”مطلقہ عورتیں روک رکھیں اپنے نفسوں کو تین قروء تک۔“ انہوں نے کہا: سچ کہتے ہو، لیکن قروء سے جانتے ہو کیا مراد ہے؟ قروء سے طہر مراد ہے۔