حدیث نمبر: 1189
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ، فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ، فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلَامِهِ، أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ "
علامہ وحید الزماں

نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو شخص اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے تو طلاق غلام کے اختیار میں ہو گی، نہ کہ اور کسی کے ہاتھ میں۔ اگر آدمی اپنے غلام کی لونڈی یا اس کی لونڈی چھین کر اس سے وطی کرے تو درست ہے۔

علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آزاد شخص یا غلام لونڈی کو طلاق دے، یا غلام آزاد بی بی کو طلاق دے اگرچہ وہ حاملہ ہو تو اس کا نفقہ اس پر لازم نہ آئے گا، جب طلاق بائن ہو جس میں رجعت نہیں ہو سکتی۔

علامہ وحید الزماں

مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر آزاد مرد کسی لونڈی سے نکاح کرے، اور اس سے بچہ پیدا ہو تو دودھ پلوائی کا خرچ خاوند پر نہ ہوگا، بلکہ اس کی ماں کے مالک پر ہوگا، کیونکہ وہ بچہ اس کا غلام ہے، اور اگر غلام کسی لونڈی سے نکاح کرے اور اس سے بچہ پیدا ہو تو دودھ پلوائی کا خرچ غلام پر نہ ہوگا، کیونکہ غلام کو مولیٰ کا مال صرف کرنا اس شخص پر جو مولیٰ کی ملک نہیں بغیر مولیٰ کی اجازت کے ناجائز ہے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1189
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15114، والبيهقي فى«سننه الصغير» برقم: 2696، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4480، 4481، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12968، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18283، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 795، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 51»