موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الْعَبْدِ باب: غلام کی طلاق کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِهِ أَنْ يَنْكِحَ، فَالطَّلَاقُ بِيَدِ الْعَبْدِ لَيْسَ بِيَدِ غَيْرِهِ مِنْ طَلَاقِهِ شَيْءٌ، فَأَمَّا أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَةَ غُلَامِهِ، أَوْ أَمَةَ وَلِيدَتِهِ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو شخص اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے تو طلاق غلام کے اختیار میں ہو گی، نہ کہ اور کسی کے ہاتھ میں۔ اگر آدمی اپنے غلام کی لونڈی یا اس کی لونڈی چھین کر اس سے وطی کرے تو درست ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آزاد شخص یا غلام لونڈی کو طلاق دے، یا غلام آزاد بی بی کو طلاق دے اگرچہ وہ حاملہ ہو تو اس کا نفقہ اس پر لازم نہ آئے گا، جب طلاق بائن ہو جس میں رجعت نہیں ہو سکتی۔
مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر آزاد مرد کسی لونڈی سے نکاح کرے، اور اس سے بچہ پیدا ہو تو دودھ پلوائی کا خرچ خاوند پر نہ ہوگا، بلکہ اس کی ماں کے مالک پر ہوگا، کیونکہ وہ بچہ اس کا غلام ہے، اور اگر غلام کسی لونڈی سے نکاح کرے اور اس سے بچہ پیدا ہو تو دودھ پلوائی کا خرچ غلام پر نہ ہوگا، کیونکہ غلام کو مولیٰ کا مال صرف کرنا اس شخص پر جو مولیٰ کی ملک نہیں بغیر مولیٰ کی اجازت کے ناجائز ہے۔