موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ طَلَاقِ الْبِكْرِ باب: کنواری کی طلاق کا بیان
حدیث نمبر: 1174
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، قَالَ عَطَاءٌ : فَقُلْتُ : إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : " إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ، الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا، وَالثَّلَاثَةُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " علامہ وحید الزماں
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پوچھنے لگا: جو شخص اپنی عورت کو تین طلاق دے جماع سے پہلے اس کا کیا حکم ہے؟ عطا نے کہا کہ باکرہ پر ایک طلاق پڑتی ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تو قصّہ خوان ہے، ایک طلاق سے بائن ہو جاتی ہے اور تین طلاق سے حرام ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ دوسرے شخص سے نکاح کرے۔