موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُلْعِ باب: خلع کا بیان
حدیث نمبر: 1166
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، أَنَّهَا " اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ " .علامہ وحید الزماں
حضرت صفیہ بنت ابی عبید کی لونڈی نے اپنے خاوند سے سارے مال کے بدلے میں خلع کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو برا نہ جانا۔
قَالَ مَالِك فِي الْمُفْتَدِيَةِ الَّتِي تَفْتَدِي مِنْ زَوْجِهَا : أَنَّهُ إِذَا عُلِمَ أَنَّ زَوْجَهَا أَضَرَّ بِهَا، وَضَيَّقَ عَلَيْهَا، وَعُلِمَ أَنَّهُ ظَالِمٌ لَهَا، مَضَى الطَّلَاقُ وَرَدَّ عَلَيْهَا مَالَهَا، قَالَ : فَهَذَا الَّذِي كُنْتُ أَسْمَعُ، وَالَّذِي عَلَيْهِ أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا .علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت مال دے کر اپنا پیچھا چھڑائے، پھر معلوم ہو کہ خاوند نے سراسر ظلم کیا تھا اور عورت کا کچھ قصور نہ تھا، بلکہ خاوند نے زور ڈال کر زبردستی سے اس کا پیسہ مار لیا، تو عورت پر طلاق پڑ جائے گی، اور مال اس کا پھروا دیا جائے گا۔ میں نے یہی سنا اور میرے نزدیک یہی حکم ہے۔
قَالَ مَالِكٌ : لَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ الْمَرْأَةُ مِنْ زَوْجِهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهَاعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر عورت جتنا خاوند نے اس کو دیا ہے اس سے زیادہ دے کر اپنا پیچھا چھڑائے تو کچھ قباحت نہیں۔