موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِيَارِ باب: آزا دی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1162
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مَوْلَاةً لِبَنِي عَدِيٍّ يُقَالُ لَهَا زَبْرَاءُ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ، وَهِيَ أَمَةٌ يَوْمَئِذٍ فَعَتَقَتْ، قَالَتْ : فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَتْنِي، فَقَالَتْ : " إِنِّي مُخْبِرَتُكِ خَبَرًا، وَلَا أُحِبُّ أَنْ تَصْنَعِي شَيْئًا إِنَّ أَمْرَكِ بِيَدِكِ مَا لَمْ يَمْسَسْكِ زَوْجُكِ، فَإِنْ مَسَّكِ فَلَيْسَ لَكِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ "، قَالَتْ : فَقُلْتُ : هُوَ الطَّلَاقُ، ثُمَّ الطَّلَاقُ، ثُمَّ الطَّلَاقُ، فَفَارَقَتْهُ ثَلَاثًا علامہ وحید الزماں
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ بنی عدی کی لونڈی جس کا نام زبراء تھا، ایک غلام کے نکاح میں تھی، وہ آزاد ہوگئی۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس کو بلایا اور کہا: میں تجھ سے ایک بات کہتی ہوں، مگر یہ نہیں چاہتی کہ تو کچھ کر بیٹھے، تجھے اختیار ہے جب تک تیرا خاوند تجھ سے جماع نہ کرے، اگر جماع کرے گا پھر تجھے اختیار نہ رہے گا۔ زبراء بول اٹھی: اگر ایسا ہی ہے تو طلاق ہے، پھر طلاق ہے، پھر طلاق ہے۔ جدا ہوگئی اپنے خاوند سے تین بار کہہ کر۔