حدیث نمبر: 1161
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْأَمَةِ تَكُونُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَتَعْتِقُ : " إِنَّ الْأَمَةَ لَهَا الْخِيَارُ مَا لَمْ يَمَسَّهَا " .
علامہ وحید الزماں

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: لونڈی اگر غلام کے نکاح میں ہو، پھر آزاد ہو جائے تو اس کو اختیار ہوگا، جب تک بعد آزادی کے اس کا شوہر اس سے جماع نہ کرے۔

قَالَ مَالِكٌ : وَإِنْ مَسَّهَا زَوْجُهَا، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَهِلَتْ أَنَّ لَهَا الْخِيَارَ، فَإِنَّهَا تُتَّهَمُ وَلَا تُصَدَّقُ بِمَا ادَّعَتْ مِنَ الْجَهَالَةِ، وَلَا خِيَارَ لَهَا بَعْدَ أَنْ يَمَسَّهَا
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر خاوند نے آزادی کے بعد اس سے جماع کیا اور لونڈی نے یہ کہا کہ مجھ کو یہ اختیار کا مسئلہ معلوم نہیں تھا، تو عذر اس کا مسموع نہ ہوگا اور اس کو اختیار نہ رہے گا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الطلاق / حدیث: 1161
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 14285، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4269، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16529، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13018، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 26»