موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخِيَارِ باب: آزا دی کے وقت اختیار ہونے کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ : فَكَانَتْ إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلَاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ، وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ ؟ " فَقَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے سبب سے شرع کی تین باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا جب آزاد ہوئیں ان کو اختیار ہوا اگر چاہیں اپنے خاوند کو چھوڑ دیں۔ دوسرا یہ کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا جب آزاد ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اس کو ملے گی جو آزاد کرے۔“ تیسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، گوشت کی ہانڈی چڑھی ہوئی تھی، سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سالن پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہانڈی چڑھی ہوئی ہے گوشت کی۔“ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ گوشت صدقہ کا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ ہے بریرہ پر اور ہدیہ ہے ہمارے واسطے بریرہ کی طرف سے۔“