موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا لَا يُبِينُ مِنَ التَّمْلِيكِ باب: جس تملیک سے طلاق بائن نہیں پڑتی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1148
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، أَمْرَهَا فَلَمْ تُفَارِقْهُ، وَقَرَّتْ عِنْدَهُ، فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ " .علامہ وحید الزماں
سعید بن مسیّب نے کہا: جب مرد اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے، مگر عورت خاوند سے جدا ہونا قبول نہ کرے، اسی کے پاس رہنا چاہے، تو طلاق نہ ہوگی۔
قَالَ مَالِكٌ فِي الْمُمَلَّكَةِ إِذَا مَلَّكَهَا زَوْجُهَا أَمْرَهَا، ثُمَّ افْتَرَقَا، وَلَمْ تَقْبَلْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا : فَلَيْسَ بِيَدِهَا مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، وَهُوَ لَهَا مَا دَامَا فِي مَجْلِسِهِمَاعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس مجلس میں خاوند عورت کو طلاق کا اختیار دے، اسی مجلس میں عورت کو اختیار ہوگا، اگر وہ مجلس برخواست ہوئی اور عورت نے طلاق نہ لی، تو پھر اختیار نہ رہے گا۔