موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا لَا يُبِينُ مِنَ التَّمْلِيكِ باب: جس تملیک سے طلاق بائن نہیں پڑتی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1147
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، سُئِلَا عَنِ الرَّجُلِ يُمَلِّكُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا، فَتَرُدُّ بِذَلِكَ إِلَيْهِ، وَلَا تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا ؟ فَقَالَا : " لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ " علامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا: ایک شخص اپنی عورت کو طلاق کا مالک کر دے، مگر عورت اس کو قبول نہ کرے، نہ اپنے تئیں طلاق دے؟ انہوں نے کہا: طلاق نہ پڑے گی۔