موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ باب: خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ بَرِئْتِ مِنِّي وَبَرِئْتُ مِنْكِ : " إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ، بِمَنْزِلَةِ الْبَتَّةِ " .ابن شہاب کہتے تھے: اگر مرد عورت سے کہے: میں تجھ سے بری ہوا اور تو مجھ سے بری ہوئی، تو تین طلاقیں پڑیں گی مثل بتہ کے۔
قَالَ مَالِكٌ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ أَوْ بَائِنَةٌ : إِنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ لِلْمَرْأَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا، وَيُدَيَّنُ فِي الَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، أَوَاحِدَةً أَرَادَ، أَمْ ثَلَاثًا ؟ فَإِنْ قَالَ وَاحِدَةً، أُحْلِفَ عَلَى ذَلِكَ، وَكَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ، لِأَنَّهُ لَا يُخْلِي الْمَرْأَةَ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا زَوْجُهَا، وَلَا يُبِينُهَا وَلَا يُبْرِيهَا، إِلَّا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ، وَالَّتِي لَمْ يَدْخُلْ بِهَا تُخْلِيهَا وَتُبْرِيهَا، وَتُبِينُهَا الْوَاحِدَةُ . قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی عورت کو کہے: تو خلیہ ہے، یا بریہ ہے، یا بائنہ ہے، تو اگر اس عورت سے صحبت کر چکا ہے، تین طلاق پڑیں گی، اور اگر صحبت نہیں کی تو اس کی نیت کے موافق پڑے گی، اگر اس نے کہا: میں نے ایک کی نیت کی تھی تو حلف لے کر اس کو سچا سمجھیں گے، مگر وہ عورت ایک ہی طلاق میں بائن ہو جائے گی، اب رجعت نہیں کر سکتا البتہ نکاح نئے سرے سے کر سکتا ہے، کیونکہ جس عورت سے صحبت نہ کی ہو وہ ایک ہی طلاق میں بائن ہو جاتی ہے، جس سے صحبت کر چکا ہے وہ تین طلاق میں بائن ہوتی ہے۔