موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَلِيَّةِ وَالْبَرِيَّةِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ باب: خلیہ اور بریہ اور ان کے مشابہات کا بیان
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّهُ كُتِبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الْعِرَاقِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِامْرَأَتِهِ : حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَامِلِهِ : " أَنْ مُرْهُ يُوَافِينِي بِمَكَّةَ فِي الْمَوْسِمِ "، فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ لَقِيَهُ الرَّجُلُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " فَقَالَ : أَنَا الَّذِي أَمَرْتَ أَنْ أُجْلَبَ عَلَيْكَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " أَسْأَلُكَ بِرَبِّ هَذِهِ الْبَنِيَّةِ، مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ "، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : لَوِ اسْتَحْلَفْتَنِي فِي غَيْرِ هَذَا الْمَكَانِ مَا صَدَقْتُكَ، أَرَدْتُ بِذَلِكَ الْفِرَاقَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " هُوَ مَا أَرَدْتَ " سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لکھا ہوا آیا کہ ایک شخص نے اپنی عورت سے کہا: «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ»، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: اس شخص سے کہہ دینا کہ حج کے موسم میں مکّہ میں مجھ سے ملے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، ایک شخص ملا اور سلام کیا، پوچھا: تو کون ہے؟ وہ بولا: میں وہی شخص ہوں جس کو تم نے حکم کیا تھا مکّہ میں ملنے کا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے تجھ کو اس گھر کے رب کی «حَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ» سے تیری کیا مراد تھی؟ وہ بولا: اے امیر المؤمنین! اگر تم مجھ کو کسی اور جگہ قسم دیتے تو میں سچ نہ کہتا، اب سچ کہتا ہوں کہ میری نیت چھوڑ دینے کی تھی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسی تو نے نیت کی ویسا ہی ہوا۔