موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الطلاق— کتاب: طلاق کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَتَّةِ باب: طلاق بتّہ یعنی تین طلاق کے بیان میں
حدیث نمبر: 1133
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيَ تَطْلِيقَاتٍ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " فَمَاذَا قِيلَ لَكَ ؟ " قَالَ : قِيلَ لِي : إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنِّي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : " صَدَقُوا، مَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ لَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ لَبْسًا، جَعَلْنَا لَبْسَهُ مُلْصَقًا بِهِ، لَا تَلْبِسُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ، هُوَ كَمَا يَقُولُونَ " علامہ وحید الزماں
ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو دو سو طلاقیں دیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے تجھ سے کیا کہا؟ وہ بولا: مجھ سے یہ کہا کہ تیری عورت تجھ سے بائن ہوگئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: سچ ہے، جو شخص اللہ کے حکم کے موافق طلاق دے گا تو اللہ نے اس کی صورت بیان کر دی، اور جو گڑبڑ کرے گا تاکہ ہم کو مصیبت اٹھانا پڑے، وہ لوگ سچ کہتے ہیں تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔