موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ نِكَاحِ الْمُشْرِكِ إِذَا أَسْلَمَتْ زَوْجَتُهُ قَبْلَهُ باب: مشرک کی زوجہ کا خاوند سے پہلے مسلمان ہونے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أُمَّ حَكِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ، فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ، فَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، " فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ إِلَيْهِ فَرِحًا، وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ، حَتَّى بَايَعَهُ، فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا ذَلِكَ " . قَالَ مَالِكٌ : وَإِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ قَبْلَ امْرَأَتِهِ، وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا إِذَا عُرِضَ عَلَيْهَا الْإِسْلَامُ فَلَمْ تُسْلِمْ، لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ : وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سورة الممتحنة آية 10ابن شہاب سے روایت ہے کہ اُم حکیم عکرمہ بن ابوجہل کی بی بی فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئی اور ان کے خاوند عکرمہ یمن بھاگ گئے، اُم حکیم بھی وہاں چلی گئی اور ان کو دینِ اسلام کی طرف بلایا، تو وہ مسلمان ہوگئے اور اسی سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو دیکھا تو خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے بیعت لی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم شریف پر چادر نہ تھی۔ پھر دونوں میاں بی بی اپنے نکاح پر قائم رہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب مرد اپنی بی بی سے پہلے مسلمان ہو جائے اور بی بی سے مسلمان ہونے کو کہا جائے اور وہ مسلمان نہ ہو تو نکاح فسخ ہو جائے گا، کیونکہ اللہ جل جلالہُ اپنی کتاب میں فرماتا ہے : «﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [الممتحنة: 10]» یعنی ”مت علاقہ رکھو کافر عورتوں سے۔“