حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ : " يَنْكِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ " .
علامہ وحید الزماں

حضرت ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن کہتے تھے: غلام چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ قول بہت اچھا ہے میرے نزدیک۔

قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: غلام کا نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے، اگر مولیٰ اجازت دے گا تو صحیح ہوگا ورنہ تفریق کی جائے گی، اور حلالہ کا نکاح ہر طرح سے چھوڑا جائے گا۔

قَالَ مَالِكٌ : وَالْعَبْدُ مُخَالِفٌ لِلْمُحَلِّلِ إِنْ أَذِنَ لَهُ سَيِّدُهُ ثَبَتَ نِكَاحُهُ، وَإِنْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُ سَيِّدُهُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَالْمُحَلِّلُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا أُرِيدَ بِالنِّكَاحِ التَّحْلِيلُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ إِذَا مَلَكَتْهُ امْرَأَتُهُ، أَوِ الزَّوْجُ يَمْلِكُ امْرَأَتَهُ : إِنَّ مِلْكَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ يَكُونُ فَسْخًا بِغَيْرِ طَلَاقٍ، وَإِنْ تَرَاجَعَا بِنِكَاحٍ بَعْدُ، لَمْ تَكُنْ تِلْكَ الْفُرْقَةُ طَلَاقًا
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر زوج زوجہ کا مالک ہو جائے یا زوجہ زوج کی مالک ہو جائے تو نکاح خود بخود فسخ ہو جائے گا بغیر طلاق کے، اب اگر پھر نکاح کریں گے تو خاوند کو تین طلاق کا اختیار رہے گا۔

قَالَ مَالِكٌ : وَالْعَبْدُ إِذَا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَتُهُ إِذَا مَلَكَتْهُ، وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ لَمْ يَتَرَاجَعَا إِلَّا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر زوجہ اپنے خاوند کو خرید کر آزاد کر دے اور وہ عدت میں ہو تو وہ دونوں نئے نکاح کے بغیر نہیں مل سکتے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب النكاح / حدیث: 1117
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع صحيح
تخریج حدیث «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 13939، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13205، 13134، 13135، فواد عبدالباقي نمبر: 28 - كِتَابُ النِّكَاحِ-ح: 43»