موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ نِكَاحِ الْعَبِيدِ باب: غلام کے نکاح کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ : " يَنْكِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ " .حضرت ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن کہتے تھے: غلام چار عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ قول بہت اچھا ہے میرے نزدیک۔
قَالَ مَالِكٌ : وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِكَامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: غلام کا نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے، اگر مولیٰ اجازت دے گا تو صحیح ہوگا ورنہ تفریق کی جائے گی، اور حلالہ کا نکاح ہر طرح سے چھوڑا جائے گا۔
قَالَ مَالِكٌ : وَالْعَبْدُ مُخَالِفٌ لِلْمُحَلِّلِ إِنْ أَذِنَ لَهُ سَيِّدُهُ ثَبَتَ نِكَاحُهُ، وَإِنْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُ سَيِّدُهُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَالْمُحَلِّلُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا أُرِيدَ بِالنِّكَاحِ التَّحْلِيلُ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ إِذَا مَلَكَتْهُ امْرَأَتُهُ، أَوِ الزَّوْجُ يَمْلِكُ امْرَأَتَهُ : إِنَّ مِلْكَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ يَكُونُ فَسْخًا بِغَيْرِ طَلَاقٍ، وَإِنْ تَرَاجَعَا بِنِكَاحٍ بَعْدُ، لَمْ تَكُنْ تِلْكَ الْفُرْقَةُ طَلَاقًاامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر زوج زوجہ کا مالک ہو جائے یا زوجہ زوج کی مالک ہو جائے تو نکاح خود بخود فسخ ہو جائے گا بغیر طلاق کے، اب اگر پھر نکاح کریں گے تو خاوند کو تین طلاق کا اختیار رہے گا۔
قَالَ مَالِكٌ : وَالْعَبْدُ إِذَا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَتُهُ إِذَا مَلَكَتْهُ، وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ لَمْ يَتَرَاجَعَا إِلَّا بِنِكَاحٍ جَدِيدٍامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر زوجہ اپنے خاوند کو خرید کر آزاد کر دے اور وہ عدت میں ہو تو وہ دونوں نئے نکاح کے بغیر نہیں مل سکتے۔