موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النِّكَاحِ باب: جو نکاح درست نہیں اس کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ : أَنَّ طُلَيْحَةَ الْأَسَدِيَّةَ كَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، فَطَلَّقَهَا، فَنَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، ثُمَّ كَانَ الْآخَرُ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الْآخَرِ، ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " .حضرت سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طلیحہ اسدیہ رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں، انہوں نے طلاق دی تو طلیحہ نے عدت کے اندر دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو کوڑے مارے اور نکاح چھڑوا دیا۔ پھر فرمایا کہ عورت عدت میں نکاح کرے کسی اور شخص سے تو اگر جماع نہ کیا ہو تو نکاح چھوڑا کر پہلے خاوند کی جس قدر عدت باقی ہو پوری کرے، اب جس سے جی چاہے نکاح کرے، مگر دوسرے خاوند سے زندگی بھر کبھی نکاح نہیں ہو سکتا۔ سعید بن مسیّب نے کہا کہ وہ عورت دوسرے خاوند سے اپنا مہر لے سکتی ہے۔
قَالَ مَالِكٌ : وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ : وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا . قَالَ مَالِكٌ : الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ، يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا، فَتَعْتَدُّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا إِنَّهَا لَا تَنْكِحُ إِنِ ارْتَابَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا، حَتَّى تَسْتَبْرِئَ نَفْسَهَا مِنْ تِلْكَ الرِّيبَةِ إِذَا خَافَتِ الْحَمْلَامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو عورت آزاد ہو اس کا خاوند مر جائے اور چار مہینے دس دن عدت کرلے، پھر حمل کا گمان ہو تو نکاح نہ کرے جب تک یہ گمان رفع نہ ہو یا وضع حمل ہو۔