موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النِّكَاحِ باب: جو نکاح درست نہیں اس کا بیان
حدیث نمبر: 1099
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ : " هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، وَلَا أُجِيزُهُ وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ " علامہ وحید الزماں
حضرت ابوزبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک نکاح کا ذکر آیا جس کا کوئی گواہ نہ تھا سوائے ایک مرد اور ایک عورت کے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ چوری چھپے کا نکاح میں جائز نہیں رکھتا، اگر میں پہلے اس کو بیان کر چکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا۔