موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ النِّكَاحِ باب: جو نکاح درست نہیں اس کا بیان
حدیث نمبر: 1098
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعٍ ، ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِدَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، " أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ نِكَاحَهُ " علامہ وحید الزماں
حضرت خنساء بنت خدام کا نکاح اس کے باپ نے کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں، اور اس نکاح سے ناراض تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح فسخ کر دیا۔