موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے بیان میں
بَابُ الْمَقَامِ عِنْدَ الْبِكْرِ وَالْأَيِّمِ باب: ثیبہ اور باکرہ کے پاس رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1088
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ " .علامہ وحید الزماں
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ باکرہ عورت کے سات دن ہیں اور ثیبہ کے تین دن۔
قَالَ مَالِكٌ : وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِكٌ : فَإِنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ غَيْرُ الَّتِي تَزَوَّجَ، فَإِنَّهُ يَقْسِمُ بَيْنَهُمَا بَعْدَ أَنْ تَمْضِيَ أَيَّامُ الَّتِي تَزَوَّجَ بِالسَّوَاءِ، وَلَا يَحْسِبُ عَلَى الَّتِي تَزَوَّجَ مَا أَقَامَ عِنْدَهَاعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس عورت سے اس نے نکاح کیا اگر اس کے سوا اور بھی اس کی کئی عورتیں ہوں تو بعد ان دنوں کے پھر سب کے پاس برابر رہا کرے، مگر یہ دن نئی عورت کے حساب میں مجرانہ ہوں گے، اس لیے کہ یہ نئی عورت کا حق ہے۔